خطبات محمود (جلد 12) — Page 186
خطبات محمود JAY سال ۲۹ یہی حال ہے پھر اور جو چیزیں دنیا میں ہیں ان کا بھی یہی حال ہے۔ہر میوہ کے قد میں فرق ہوتا ہے۔ایک چھوٹے سے چھوٹا آم ہو گا جس سے زیادہ چھوٹا نہ ہو گا اور ایک بڑے سے بڑا ہو گا جس سے بڑا نہ ہوگا۔غرض اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کیلئے حد بندی کر دی ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی اتنی ہو گی اور بڑی سے بڑی اتنی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی عقلوں میں بھی حد بندی کر دی ہے۔ایک چھوٹی سے چھوٹی عقل ہوگی جو ہر ایک انسان میں پائی جائے گی۔چونکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہر انسان ایمان حاصل کر سکے اس لئے اگر وہ ایمان کو چھوٹی سے چھوٹی عقل کا معیار نہ قرار دیتا تو پھر سب مکلف نہ ہوتے صرف وہی ہوتے جو اس عقل سے اوپر ہوتے۔کیونکہ جس شخص کی سمجھ میں ہی کوئی بات نہ آئے اس پر اس کے متعلق الزام عائد نہیں ہو سکتا اس لئے ایمانی ادنی سے ادنی عقل کا معیار ہے اور درمیان میں عقل کے مختلف مدارج ہیں جن کے لحاظ سے کوئی بڑا عقلمند ہے اور کوئی چھوٹا۔اور عقل کے ان مدارج کے لحاظ سے انسانوں کے کاموں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔کوئی بڑا آدمی ہوتا ہے اور کوئی اوسط درجہ کا اور کوئی معمولی۔اور مختلف انسانوں میں اس اختلاف میں انکی عقل کا ہی دخل ہوتا ہے جو فطرت نے انہیں دی ہے۔میں اس وقت اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ انسانی عقل میں تفاوت کیوں ہے جس سے ایک بڑا آدمی بن جاتا ہے اور دوسرا بالکل معمولی رہتا ہے اور اسکا ہونا ظلم ہے یا نہیں۔یہ ایک الگ مضمون ہے۔اس وقت میں جو کچھ بتانا چاہتا ہوں یہ تفاوت ہوتا ہے اور اس کی بناء پر ہر ایک سے ایک ہی جیسی امید نہیں کی جا سکتی۔ہم یہ امید تو سب سے کر سکتے ہیں کہ ایمان لے آئیں لیکن یہ نہیں کر سکتے کہ سب ایک سے مؤمن ہو جائیں۔قرآن کریم میں یہ مطالبہ تو ہے کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے مگر یہ نہیں کہ ابو بکر اور عمر جیسے مؤمن کیوں نہیں بنتے۔رسول کریم حملے کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کتنی نمازیں فرض ہیں۔آپ نے فرمایا پانچ۔اس نے کہا صرف پانچ۔آپ نے فرمایا ہاں۔پھر اسی طرح اس نے روزہ اور زکوۃ کے متعلق دریافت کیا اور آپ کا جواب سن کر کہا۔بس میں اس سے زیادہ نہیں کروں گا۔آپ نے فرمایا اگر تو اتنا کرے تو تو جنتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے سب سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ جیسے ایمان کا مطالبہ نہیں کیا۔تحریص تو اس کے لئے دلائی گئی ہے لیکن حکم نہیں دیا گیا کیونکہ یہ سب مدارج قابلیتوں کے ماتحت حاصل ہو سکتے ہیں اور چونکہ انسان کی قابلیتیں مختلف ہوتی ہیں اس لئے قلیل ترین معقل کے معیار