خطبات محمود (جلد 12) — Page 182
خطبات محمود JAY سال ۱۹۲۹ء تم ابھی غنچہ ہو لیکن کام پھولوں والا کیا ہے ایسا نہ ہو کہ دن کھلے ہی مرجھا جاؤ۔بہتر ہوتا اگر گلیڈ اسی کام میں مصروف رہتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے مخصوص کیا گیا ہے لیکن جب تم نے دوسرے کام میں بھی ہاتھ ڈالا ہے تو تم پر دو ذمہ واریاں عائد ہوگئی ہیں اور دونوں کو نبھانا تمہارا فرض ہے۔یا درکھو اگر تبلیغ میں کوتاہی کی تو نہ دین میں تمہارا ٹھکانا ہو گا اور نہ دنیا میں۔ہمارا کام گائے کھانا نہیں بلکہ قرآن کریم اور اسلام کی اشاعت ہے اگر اس سے غفلت کی تو دونوں جہان میں نقصان اُٹھاؤ گے۔ہر ایک کام پر تبلیغ کو مقدم کرو اور پھر جو زائد ذمہ داری اپنے او پر ڈالی ہے اسے نبھاؤ۔جس طرح بعض بظاہر خیر نظر آنے والی باتیں تکلیف کا موجب ہو جاتی ہیں اسی طرح بعض | تکلیف دہ نظر آنے والی باتیں راحت و آرام کا موجب بھی ہو جاتی ہیں۔قرآن کریم نے عسی أن تُحِبُّوا شَياً وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ کے ساتھ عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ " بھی فرمایا ہے۔یہ ایک زائد بو جھ جو آپ لوگوں نے خود اُٹھایا ہے بہت سی طبائع پر بار گراں ہو گا لیکن یہ اب اصولی سوال بن گیا ہے اور سارے ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے اس لئے ممکن ہے زیادہ وقت لے۔لیکن تھوڑے ہی دنوں میں کمزور طبع والے بہانے بنانے لگیں گے اس لئے میں ان سے کہتا ہوں کہ قرآن کریم نے بتایا ہے بعض بُری نظر آنے والی چیزیں بھی خیر کا موجب ہو جایا کرتی ہیں۔پس اگر اسے بُرا بھی سمجھو تو یاد رکھو اس سے بھی ایسے اسباب پیدا ہو سکتے ہیں جو اسلام واحمدیت کے استحکام کا موجب ہوں۔لیکن یہ یاد رکھو بُزدل نہ دنیا میں پسندیدہ ہے نہ دین میں۔مؤمن کو بہادر ہونا چاہے وہ کبھی بزدل نہیں ہوتا اور کسی سے ڈرا نہیں کرتا اپنے اندر اور اپنی اولادوں کے دلوں میں دلیری پیدا کرو۔اپنے بچوں کے یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر دو کہ ایک مسلمان ہزاروں غیر مسلموں پر بھاری ہوتا ہے اور اسلام اور ایمان کی جرات کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں ایک جنگ ہو رہی تھی جس میں بقول اسلامی مؤرخین عیسائی فوج کی تعداد دس لاکھ تھی لیکن عیسائی صرف چار لاکھ بتاتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں اسلامی لشکر صرف ساٹھ ہزار تھا۔گویا ایک ایک مسلمان کے مقابلہ میں چھ چھ سات سات دوسرے لوگ تھے اور دس لاکھ کا اندازہ صحیح ہو تو گویا ایک مسلمان کے مقابلہ میں تھیں