خطبات محمود (جلد 12) — Page 172
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء پھر جتنی کتابیں بہاء اللہ کی ہیں ان پر لکھا ہوتا ہے وحی کی بہاء اللہ نے کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں انسانوں کی طرف وحی کرتا ہوں بلکہ یہ خدا ہی کہہ سکتا ہے کیونکہ وہی وحی کرتا ہے۔مگر ان کی کتابوں پر لکھا ہوتا ہے۔وحی کی بہاء اللہ نے میرے پاس یہاں انکی ایک کتاب کا انگریزی ترجمہ موجود ہے جو دیکھنا چاہے دیکھ سکتا ہے اس پر یہی لکھا ہے۔یہ بہائیوں نے ہی شائع کی ہے اصل کتابیں مرکز میں موجود ہیں۔کہا جاتا ہے بہاء اللہ تو خود خدا سے دعائیں مانگتا ہے پھر وہ خدائی کا دعویٰ کیونکر کر سکتا تھا ؟ مگر یہ دھوکا ہے عیسائی یسوع مسیح کو خدا مانتے ہیں یا نہیں۔پھر ان کی کتابوں میں لکھا ہے یا نہیں کہ یسوع مسیح خدا سے دعائیں مانگتے تھے۔بات یہ ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے لحاظ سے جس قسم کا خدا سمجھتے ہیں ویسا بہاء اللہ کو مانتے ہیں۔ہمارے عقیدہ کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کی جو صفات ہیں ویسا نہیں مانتے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ جسم ہو کر دنیا میں نہیں آ سکتا۔کھانا پینا سونا‘ بیمار ہونا تکلیف اٹھا نا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔مگر وہ کہتے ہیں خدا انسان کی شکل اختیار کر کے دنیا میں آ سکتا ہے وہ کھا پی سکتا ہے قید ہو سکتا ہے، تکالیف اُٹھا سکتا ہے ان کے نزدیک یہ باتیں خدا کی شان کے خلاف نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں یہ جسمانی حالت ہوتی ہے جو الوہیت کے منافی نہیں ہے۔غرض ان کے نزدیک خدا مجسم ہو کر دنیا میں آسکتا ہے اور جب مجسم ہو سکتا ہے تو کھاپی بھی سکتا ہے، تکالیف بھی اٹھا سکتا ہے۔پس ان کے اس عقیدہ کے لحاظ سے بہاء اللہ کے دعویٰ کو پر کھا جائے گا۔ان کا عیسائیوں جیسا عقیدہ ہے کہ کھانے پینے سونے جاگنے اور دکھ اٹھانے والا خدا مانتے ہیں۔وہ ان باتوں کے باوجود خدا سمجھتے ہیں چنانچہ بہاء اللہ کی قبر پر سجدہ کرتے ہیں۔یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض لوگ قبروں پر سجدہ کراتے ہیں۔کیونکہ قبروں پر سجدہ کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اسلام سے ناواقف اور جاہل ہیں۔یہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ رسول کریم ﷺ کی قبر پر حضرت ابو بکر یا حضرت عمر یا اور صحابہ نے کبھی سجدہ کیا مگر بہاء اللہ کی قبر پر عبدالبهاء سجدہ کرتے تھے، چڑھاوے چڑھاتے تھے اور اب بھی ایسا ہی کرتے ہیں چنانچہ عبد البہاء کی کتابوں میں یہ باتیں موجود ہیں۔یہ باتیں اگر بہت عرصہ کے بعد ان میں پائی جاتیں تو کہا جا سکتا کہ لوگوں نے غلطی سے اختیار کر لیں مگر وہ تو بہاء اللہ کے مرنے کے معا بعد ان کے مرتکب ہونے لگ گئے اور کسی نے اس سے نہ روکا۔