خطبات محمود (جلد 12) — Page 171
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء اے غصن اعظم (بہاء اللہ کے بیٹے عبد البہاء) میں عاجزی سے اقرار کرتا ہوں۔خدائے قادر مطلق کے ایک ہونے کا جو میرا پیدا کرنے والا ہے میں ایمان لاتا ہوں کہ وہ انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس نے اپنا ایک کنبہ قائم کیا۔اور پھر یقین رکھتا ہوں اس کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے پر۔اور ایمان لاتا ہوں اس بات پر کہ اس نے اپنی بادشاہت مجھ کو دے دی ہے اے غصنِ اعظم ! جو اس کا نہایت ہی سب سے پیارا بیٹا اور راز ہے۔“ اس کے متعلق کہا جاتا ہے جس طرح قرآن میں آیا ہے۔مَارَمَيْتَ اذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رمى " اسی طرح کے وہ فقرات ہیں جو بہاء اللہ نے بیان کئے یا ان کے متعلق کہے گئے مگر ان میں اور اس میں بہت بڑا فرق ہے۔یہ تو کہہ سکتے ہیں بادشاہ کے قائمقام جو کام کرتے ہیں وہ بادشاہ کا ہی کام ہوتا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں جو کام کرتا ہے وہ بادشاہ کا ہی کام کرتا ہے ان دونوں باتوں میں بہت بڑا فرق ہے۔قائمقام بن کر کام کرنا اور بات ہے اور خود بخود کسی کام کے کرنے کا دعوی کرنا اور بات ہے۔کہا جاتا ہے مجازی طور پر بہاء اللہ نے اپنے آپ کو خدا قرار دیا ہے مگر مجاز کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ایک بے وقوف کو مجاز ا گدھا کہا جا سکتا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اُس کی دُم بھی ہے چار ٹانگیں بھی ہیں تو اسے کون مجاز کہہ سکتا ہے یہ تو سچ سچ کے گدھے کی علامات ہیں۔پس مجاز کے لئے کوئی دلیل اور قرینہ ہونا چاہئے۔ورنہ اگر کوئی شخص دودھ لائے اور کہے میری اس سے مراد ڈبل روٹی ہے تو کون اس کی اس بات کو مجاز تسلیم کرے گا۔پس جب صاف لکھا ہے کہ خدا دنیا میں انسانی شکل میں آیا اس نے کنبہ قائم کیا اور وہ اپنے بیٹے عبد البہاء کو اپنی بادشاہت دے کر چلا گیا تو اسے کون مجاز کہہ سکتا ہے۔اس قسم کے اور بھی بہت سے فقرے پائے جاتے ہیں چنانچہ لکھا ہے ایک دفعہ دو شخصوں کا جھگڑا بہاء اللہ کے سامنے پیش ہوا۔ایک کہتا تھا بہاء اللہ خدا ہے ان کے سوا کوئی خدا نہیں۔دوسرا کہتا تھا کہ ظل اللہ ہیں۔بہاء اللہ نے کہا تم دونوں ٹھیک کہتے ہو۔ایک امریکن بہائی ایم۔ایچ فلپس نے اپنی کتاب سوانح و تعلیماتِ عبد البہاء کے صفحہ ۱۳۵ میں لکھا ہے مجھے عبد البہاء اور اس کی بہن نے بتایا کہ ظل اللہ کے معنے ہیں خدائی کے مرتبہ پر پہنچا ہوا انسان۔اس سے ظاہر ہے کہ بہاء اللہ اپنے آپ کو خدا بشکل انسان قرار دیتا ہے۔