خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 15

خطبات محمود ۱۵ سال ۱۹۲۹ء عزیز امریکہ کے ساحل پر سمندر میں ڈوب رہا ہے اب ظاہر ہے کہ وہ اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ایسے موقع پر اس کا یہ سوال کہ مجھے کیا کرنا چاہئے بیوقوفی کا سوال ہوگا کیونکہ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا۔تو ایسی صورت میں سوال احساسات کا ہوتا ہے کہ کیا احساسات ہونے چاہئیں؟ لیکن افغانستان کے واقعات کے متعلق یہ پوچھنا کہ ہمارے احساسات کیا ہونے چاہئیں؟ یہ بھی ایک فضول سوال ہے کیونکہ ہر ایک شخص کا اپنا خیال اور اپنی جس ہوتی ہے جسے وہ دوسرے کو نہیں دے سکتا۔یہ بے شک صحیح ہے کہ خیالات کے ماتحت آہستہ آہستہ احساسات تبدیل ہو جاتے ہیں مگر براہ راست ہم اپنی جس کسی دوسرے کو نہیں دے سکتے۔اس لحاظ سے یہ سوال کہ ہمیں کسی قسم کے احساسات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے قابل غور سوال رہ جاتا ہے۔میرے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں کی بہت ساری طاقت اس وجہ سے ضائع ہو رہی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں پڑ جاتے ہیں جن میں کچھ کر نہیں سکتے اور جو ان کے دائرہ عمل سے باہر ہوتے ہیں۔شرک یورپ کی جنگ میں شریک ہوئے تو انہوں نے شور مچایا کہ اسلام کی بنیاد خلافت پر ہے اگر یورپین اقوام نے خلافت کو نقصان پہنچایا تو ہم ان کی دھجیاں اڑا دیں گے اور انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیں گے۔لیکن ان ہی ترکوں نے جن کی حمایت میں یہ آوازیں بلند کی جاتی تھیں جب خود ہی شر کی خلافت کو مٹادیا تو وہ خاموش ہو کر بیٹھ گئے اور کسی کی بھی دھجیاں نہ اُڑا سکے۔ان کی دھمکیوں کا نتیجہ کیا نکلا۔سوائے اس کے کچھ بھی نہ نکلا کہ یورپ نے کہا کہ مسلمان کہتے تھے اسلام کی بنیا دخلافت پر ہے جب خلافت مٹ گئی تو اسلام بھی مٹ گیا۔میرے نزدیک مسلمانوں نے اپنے احساسات کو اس قدر ہلکا اور اتنا ارزاں کر دیا ہے کہ اب ان کی کچھ بھی قیمت نہیں رہی اور ان کی حیثیت جرمنی کے پرانے مارک کی سی ہوگئی ہے جو روپیہ کا اربوں ارب آتا تھا وہ اس وقت احساسات کا جوش ظاہر کرتے ہیں جب نتیجہ کچھ نہیں ہوتا اور ایسے رنگ میں انہیں پیش کرتے ہیں گویا وہ مارکٹ ایبل (MARKETABLE) یا منڈی میں رکھے جانے کے قابل کوئی چیز ہے لیکن آخر کار وہ رڈی ثابت ہوتی ہے۔اگر وہ صرف جذبات کا اظہار کر دیا کریں اور کہہ دیا کریں کہ یہ بات ہمیں بُری لگتی ہے ہم اسے پسند نہیں کرتے اور یہ ارادہ رکھیں کہ جب بھی خدا تعالی طاقت دیگا اسے بدل دیں گے تو ہر سمجھدار ان کے اس جذ بہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گا اور کہے گا یہ قوم حالات کو سمجھتی ہے اور پختہ ارادہ رکھتی ہے۔۔