خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 16

خطبات محمود 14 سال ۱۹۲۹ء بے دست و پاکی کی حالت میں گالیوں پر نہیں اتر آتی اور فضول و بے فائدہ باتیں کہہ کر اپنا جوش نہیں ضائع کر دیتی بلکہ صرف جذبات کے اظہار پر اکتفا کرتی ہے۔پھر یہ سمجھ کر کہ جو قوم سالوں نہیں بلکہ صدیوں تک اپنے جذبات کو دبائے رکھ سکتی ہے وہ مُردہ نہیں بلکہ اس میں زندگی کی روح باقی ہے اور وہ کسی نہ کسی دن ضرور کچھ کر کے رہے گی ان حالات میں دنیا مسلمانوں سے خوف کھائے اور ان کا رعب ہو۔لیکن ایک شخص جو روز دھمکیاں دیتا ہے کہ میں یہ کر دوں گا اور وہ کر دوں گا لیکن جب کرنے کا وقت آتا ہے تو خاموش ہو کر گھر میں جا گھستا ہے اس کیا رُعب ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اب مسلمانوں کی آواز کی کوئی قدر نہیں اور ہندوؤں کی آواز کی قدر ہے۔اگر چہ صدیوں کی غلامی کی وجہ سے وہ بھی کما حقہ اپنے جذبات کو دبا نہیں سکتے لیکن مسلمانوں نے زیادہ دبا لیتے ہیں اس لئے ان کا رُعب قائم ہے۔جب تک ہندوستان کے مسلمانوں نے یورپ کو یہ دھمکی نہیں دی تھی کہ اسلام کی بناء خلافت لڑکی پر ہے اگر اس خلافت کو مٹایا گیا تو ہم یورپ کو مٹادیں گئے ان کی آواز میں کچھ نہ کچھ زور تھا اور ان کا زعب تھا لیکن جس دن ان کی اس دھمکی کے نتائج صفر نکلے تو یورپ نے سمجھ لیا یہ سب بچوں کا کھیل ہے۔میرے نزدیک افغانستان کے معاملات کے متعلق مسلمانوں کو صرف ایک بات پر زور دینا چاہئے اور وہ یہ کہ کوئی غیر ملکی حکومت اس کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے اور واضح طور پر بتا دینا چاہئے کہ ہم ایسی مداخلت کو نا پسند کرتے ہیں اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کر دینا چاہتے اس کے سوا کسی دھمکی کی ضرورت نہیں۔جب کچھ کرنے کا موقع آئے گا اور کچھ کر کے دکھانے کی طاقت پیدا ہو جائے گی اُس وقت دیکھا جائے گا۔فرض کرو مسلمانوں میں لڑنے اور مقابلہ کرنے کی طاقت پیدا ہوگئی ہے اُس وقت اگر چاہئیں تو بے شک لٹر پڑیں۔لیکن قبل از وقت کہ دینا کہ ہم یوں کریں گے مگر موقع پر چپ کر کے بیٹھ رہنا ایک فضول امر ہے۔اگر وہ ایسا نہ کہیں تو موقع آنے پر ان کے ہاتھ کھل نہیں ہو جائیں گے کہ دشمن کو پکڑ نہ سکیں۔اگر وہ کسی بات کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان میں طاقت پیدا ہو گئی ہے خواہ اظہار کریں نہ کریں وقت پر دشمن کو پکڑ سکیں گے۔لیکن اگر ہم جانتے ہیں کہ ہم دشمن کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور پھر کہتے ہیں اگر تم نے ہماری بات نہ مانی تو ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے تو دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو ہماری بات مانی جائے گی یا نہیں مانی جائے گی۔اگر نہ