خطبات محمود (جلد 12) — Page 108
خطبات محمود 1۔A سال ۱۹۲۹ء مقصد بھی یہی ہو جو ہم نے رکھا ہے اور کوئی سیاسی غرض ان کے مد نظر نہ ہو۔ان کے بزرگوں کے متعلق بھی بہت سی غلط فہمیاں ہیں۔مثلاً اگر گاؤں کے کسی جاہل مسلمان سے پوچھو کہ کرشن اور رام کون تھے تو وہ یہی کہے گا کہ ہندو تھے اور ہندو ہونے کے باعث انہیں کا فر خیال کرتا ہو گا لیکن وہ ان قربانیوں سے قطعاً نا واقف ہو گا جو انہوں نے بنی نوع انسان کی خاطر کیں۔ان کی خدمات ملکی کا اسے کوئی علم نہیں اور وہ اس عشق کی آگ سے بالکل بے خبر ہے جو خدا تعالیٰ کے لئے ان کے اندر موجود تھی۔پس اگر وہ بھی ایسے جلسوں کا انتظام کر کے رام کرشن بدھ نھ تشت، کنفیوشس کی لائف تاریخی طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں کتھا کے طور پر نہیں بلکہ تاریخی واقعات سے ان کی خوبیاں لوگوں کے سامنے رکھیں تو بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔اس موقع پر اخبار الفضل کا خاتم النبین نمبر بھی شائع ہوتا ہے۔افسوس ہے کہ دوستوں نے اس کی توسیع اشاعت کے لئے پوری توجہ نہیں کی۔میرا خیال تھا کہ اس سال یہ پر چہ کم از کم پندرہ ہزار شائع کیا جائے لیکن اخبار والے گذشتہ سال کے تجربہ کی بناء پر اس قدر شائع کرنے کی جرات نہیں کر سکتے اس لئے ان کا ارادہ دس ہزار شائع کرنے کا ہے۔اب چونکہ وقت بہت کم ہے اور چھپائی شروع ہونے والی ہے اگر آرڈر زیادہ نہ آئے تو ممکن ہے اس سے بھی کم چھپنے اور پھر دوستوں کو محروم رہنا پڑے کیونکہ دوسرا ایڈیشن شائع نہیں ہو گا۔اس لئے میں تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شائع کرنے کی کوشش کریں تا اگر زیادہ نہیں تو کم از کم دس ہزار ہی شائع ہو سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش تھی، کہ ریویو دس ہزار چھپے۔کیا ہماری جماعت میں اتنی بھی غیرت نہیں کہ اس خواہش کو سال کے ایک پرچہ کے متعلق ہی پورا کر سکے اور میں سمجھتا ہوں اگر ہم حضرت مسیح موعود کی خواہش کو اس ایک پرچہ کے متعلق ہی پورا کر دیں تو ممکن ہے خدا تعالٰی ہماری اس قربانی کو دیکھ کر ہمیں سب کی اشاعت ہی دس ہزار کرنے کی توفیق عطا کر دے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے خیال سے اس پر چہ کی اشاعت کم از کم دس ہزار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تعجب ہے کہ بڑی بڑی جماعتوں نے اس طرف توجہ نہیں کی مثلاً لا ہور میں ہزار دو ہزار پر چہ کا لگ جانا کوئی بڑی بات نہیں اگر سو والنٹیئر بھی ایسے ہو جائیں جن میں سے ہر ایک تہیہ کر لے کہ میں ۲۰ پرچے فروخت کروں گا تو بھی دو ہزار پرچے بک سکتے ہیں۔اسی طرح کلکتہ