خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 109

خطبات محمود ١٠٩ سال ۱۹۲۹ء کا مدراس، لکھنؤ دہلی اور دوسرے ایسے شہروں میں جہاں آبادی ایک لاکھ سے زائد ہو اگر کوشش کی جائے تو بہت کامیابی ہو سکتی ہے۔ان مقامات پر ہماری جماعتیں اگر چہ کم ہیں لیکن احباب جماعت اپنے دوسرے مسلم یا غیر مسلم دوستوں سے مدد لے سکتے ہیں۔پس اگر کوشش کی جائے تو دس ہزار پر چہ ان بڑے بڑے شہروں میں ہی فروخت ہوسکتا ہے۔اس طرح اگر ہر جماعت اس کے لئے کوشش کرنا اپنے لئے فرض کر لے تو تمیں ہزار پر چہ کا نکل جانا بھی بڑی بات نہیں لیکن اس کے لئے دلی کوشش کی ضرورت ہے۔تو راشنان موراشنان“ والی بات نہ ہونی چاہئے۔کہتے ہیں کوئی برہمن نہانے کے لئے گیا سردی بہت شدت کی تھی اور ٹھنڈے پانی میں نہانے کی اُسے جرات نہ ہوتی تھی۔راستہ میں اسے ایک دوسرا برہمن ملا جس سے اس نے پوچھا کہ تم نے ایسی سردی میں کس طرح اشنان کیا؟ اس کے جواب میں اس نے کہا میں تو کپڑے اُتار کر پانی میں داخل ہونے لگا تھا لیکن سردی سے ڈر گیا اور ” تو راشنان موراشنان“ کہہ کر ایک کنکر پانی میں پھینک دیا۔اس پر دوسرے برہمن نے کہا اچھا تو پھر " تو راشنان سوموراشنان“۔پس اگر یہ تو راشنان موراشنان والا معاملہ نہ ہو اور دوست یہ بات نہ کریں کہ اگر ایک نے کہدیا کہ اچھا میں کوشش کروں گا تو باقی سارا کام اس کے سپرد کر کے چچپ چاپ بیٹھ جائیں بلکہ ہر ایک جماعت کا ہر فرد اس کے لئے کوشش کرے جہاں سو افراد کی جماعت ہو وہاں ہزار اور جہاں دوسو ہو وہاں دو ہزار اور ہر جگہ جماعت کی تعداد کے لحاظ سے سو پچاس دس پانچ جتنے ممکن ہوں پر چے فروخت کرنے کی کوشش کی جائے تو بہت بڑی تعداد میں اس کی اشاعت ہو سکتی ہے۔لاہور میں ہماری جماعت کے تین چار سو افراد ہیں اور عورتیں بچے ملا کر پانچ سو سے بھی زیادہ تعداد ہو جاتی ہے۔اسی طرح سیالکوٹ میں پانچ چھ سو اور عورتوں بچوں سمیت اس سے بہت زیادہ ہے یہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق پرچے فروخت کرنے کا ذمہ لیں اور اسی طرح ہر شہر اپنی حیثیت کے مطابق اس میں کوشش کرے تو اس پر چہ کا بہت بڑی تعداد میں نکل جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ضرورت صرف ارادہ اور نظام کی ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں تمام کاموں کو خواہ مالی ہوں یا نشر واشاعت یا اور کسی قسم کے کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ( الفضل ۳۔مئی ۱۹۲۹ء) ESSENCE: عطر۔جو ہر۔عرق