خطبات محمود (جلد 12) — Page 105
خطبات محمود ۱۰۵ سال ۱۹۲۹ء اس کے متعلق سوال کرے گا اور توڑنے والے سے مؤاخذہ ہو گا۔پس بہر حال پچھلا بقایا پورا کرنا ضروری ہے۔سال بے شک ختم ہے لیکن اس کے ساتھ معاہدہ ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ یہ سال اور مہینے ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کا زمانہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔پس جن دوستوں نے کسی عارضی مجبوری کی وجہ سے جیسے پچھلے سال قحط تھا بجٹ پورانہیں کیا تو اگر خدا تعالیٰ نے ان کی روکوں کو دور کر دیا ہے تو انہیں چاہئے کہ اگلے سال کا بجٹ بھی پورا کریں اور بقایا بھی ادا کریں لیکن جن کی روکیں ابھی چلی جارہی ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور معذور ہیں تا ہم انہیں چاہئے کہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ وہ سُست نہیں، اپنی معذوریاں اپنے بھائیوں کے پیش کر دیں۔اور اگر کوئی مستقل مصیبت میں ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معذور ہے۔لیکن اسے بھی چاہئے کہ اپنے بھائیوں پر یہ ثابت کر دے کہ وہ سستی سے ایسا نہیں کرتا بلکہ وہ فی الواقعہ تکلیف میں ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر اس میں خواہش ہے کہ خدا تعالیٰ توفیق دے تو میں بھی خدمت دین کے لئے قربانی کروں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ ایسا ہی ہے جیسے باقاعدہ ادا کرنے والے۔میں اپنے دوستوں سے خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے اگر چہ درخواست تو قادیان والوں نے ہی کی تھی نصیحت کرتا ہوں کہ ۳۰۔اپریل کے ختم ہونے کے بعد بھی وہ بقائے صاف کرنے کی طرف خاص دھیان دیں۔ہمارا سال بے شک ختم ہو جائے گا لیکن خدا کا سال ختم نہیں ہو گا خدا تعالیٰ کے سال اور ہیں خدا تعالیٰ کا سال انسان کی پیدائش سے موت تک ہے۔امید ہے کہ دوست مالی ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں بقائے جلد صاف کریں گے۔چندہ دیتے ہوئے ہمیں صرف مالی پہلو کو ہی مد نظر نہیں رکھنا چاہئے اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ہم چندہ دے رہے ہیں کیونکہ جو چندہ دیا جاتا ہے وہ صرف چندہ نہیں بلکہ اسلام کی ہر قسم کی خدمت ہے۔وہی سونا یا چاندی یا کاغذ جو ہم دیتے ہیں وہ در اصل تبلیغ ، تربیت اور تعلیم ہوتی ہے۔وہ اس کام کو جو حضرت مسیح موعود اور جماعت احمدیہ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈالا گیا ہے پورا کرنے کا نشان اور علامت ہیں۔لہذا ہمیں چاندی یا سونے کو چاندی یا سونے کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ ان روحانی معارف کی صورت میں دیکھنا چاہئے جو اس کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نادانوں نے اعتراض کئے اور اب بھی اخباروں میں ایسے اعتراضات ہوتے رہتے ہیں کہ آپ وصیت کے ذریعہ روپیہ وصول کرتے ہیں لیکن انہوں نے سمجھا نہیں کہ یہ روپیہ در اصل روپیہ نہیں بلکہ دین کی اشاعت ہے۔