خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 84

خطبات محمود ۸۴ سال ۱۹۲۹ء حضور جوابدہ ہونگے اس لئے ہمارے لئے سخت خطرہ کا مقام ہے۔ ہماری مثال تو ایسی ہے جیسے کہتے ہیں کسی بزر بزرگ کو کسی بادشاہ نے قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس بنا دیا۔ دوست احباب جمع ہو کر ان کے مکان پر مبارکباد کے لئے گئے لیکن انہوں نے جا کر دیکھا کہ وہ بے تابی کے ساتھ رو رہے ہیں ۔ انہوں نے پوچھا کیا بات ہے ہم تو سمجھتے تھے کہ آپ کے گھر بہت خوشیاں ہو رہی ہوں گی لیکن آپ رو رہے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ خوشی کا موقع نہیں بلکہ خطر ناک ابتلاء ہے۔ میں بیٹھا ہونگا دو شخص فیصلہ کے لئے میرے پاس آئیں گے ۔ ایک کہے گا یہ میرا حق ہے اور دوسرا کہے گا میرا ہے اور ان دونوں کو پتہ ہو گا کہ کس کا ہے لیکن میں جس کے سپرد اس کا فیصلہ ہو گا نہیں جانتا ہوں گا ۔ وہ دونوں گویا سو جا کھے ہونگے اور میں جس نے فیصلہ کرنا ہے اندھا ہوں گا۔ میں نہ معلوم کتنے حق داروں کے حق چھین کر دوسروں کو دے دوں گا کتنے مظلوموں کو ظالم قرار دیکر سزا دیدوں گا اور کتنے ظالموں کو چھوڑ دوں گا ۔ پس بتاؤ یہ میرے لئے رونے کا مقام ہے یا خوشیاں منانے کا ۔ ہے پس ہمارا یہ اجتماع بھی بہت نازک اجتماع ہے اور ہم پر بہت بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اس لئے دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنے کی توفیق دے جو اس کی رضا کے مطابق ہے ۔ صلى الله اس خطبہ کا آخری حصہ دراصل مجلس مشاورت میں بیان کرنا چاہئے تھا لیکن چونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ میں ایک ایسی ساعت ہے جب دعا قبول ہو جاتی ہے شہ اس لئے میں نے جمعہ میں ہی اسے بیان کرنا مناسب سمجھا تا شاید ہماری دعائیں اس گھڑی کو پالیں اور قبول ہو جائیں ۔ ا تذکرہ صفحہ ۷۶۶ ۔ ایڈیشن چہارم ( الفضل ۵۔ اپریل ۱۹۲۹ء ) انگریز مد بر اور ادیب ۔ نام کا صحیح تلفظ رالی ہے : SIR WALTER RALEIGHI ملکہ الزبتھ اوّل کا مقرب تھا ۔ امریکہ میں نو آبادیوں کیلئے مہمات کا آغاز کیا۔ انگلستان کو آلو اور تمباکو سے متعارف کروایا ۔ ۱۵۹۵ء میں دری کروایا ۔ ۱۵۹۵ء میں دریائے اور ی نو کو (ویز و وینزویلا ویلا جنوبی امریکہ ) کے منبع کی طرف مہم لے کر گیا ۔ جمیز اوّل کی تخت نشینی اس کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔ نہایت ناکافی شہادت کی بناء پر غداری کے الزام میں سزا دیکر لندن کے