خطبات محمود (جلد 12) — Page 77
خطبات محمود ८८ سال ۱۹۲۹ء چاہئے کہ مجموعی طور پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اگر کسی ایجنسی سے منافع نہ بھی لیا جائے تو بھی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ اشاعت بڑھنے سے عملہ میں تو کوئی زیادتی نہیں کرنی پڑے گی اور عملہ کا خرچ تو بہر حال جو تھوڑی تعداد پر پڑتا ہے وہی زیادہ پر پڑے گا لیکن اگر ایجنسی کو رعایت دے دی جائے تو اخبار کی اشاعت زیادہ ہو جائے گی۔ زیادہ لوگ اسے پڑھیں گے اور اشتہار بھی زیادہ آئیں گے پھر اور بھی کئی منافع کی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلاً تین ہزار شائع ہونے والے اخبار کے لئے جب کا غذ خریدا جائے گا تو وہ پندرہ سو کے لئے خریدنے سے ستا ملے گا کیونکہ دکاندار بڑے گاہک کو ہمیشہ ستا سودا دیتا ہے ۔ چاول اگر ایک روپے کے دو یا پونے دوسیر ملتے ہیں تو منڈی سے پندرہ سولہ روپے من مل جائیں گے اور پچاس ساٹھ من خرید نے ہوں تو اس سے بھی سستے مل جائیں گے ۔ پھر اگر جہاز خرید لیا جائے تو بہت ہی سستے پڑیں گے۔ تو صرف یہی نہیں کہ اشاعت زیادہ ہونے کی وجہ سے اشتہار ہی زیادہ آئیں گے بلکہ خرچ بھی کئی پہلوؤں سے کم ہو جائے گا اور کئی صورتیں بچت کی پیدا ہو جائیں گی ۔ پس اخبار والوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی سہولتیں بہم پہنچانے کی کوشش کریں ۔ ایک صیغہ بھی قائم کیا گیا ہے تا کہ دوستوں میں تحریک کر کے کتب اور اخبارات کی توسیع واشاعت میں مدد دے اور میاں مصباح الدین صاحب کو جو ولائت میں بھی رہے ہیں اس کام پر مقرر کیا گیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں وہ اپنے کام کو صحیح طریق پر چلائیں گے اور ایسا طول امل اور اتنی بڑی سکیمیں نہ شروع کریں گے کہ اصل کام پر پردہ ہی پڑا ر ہے اور میں دوستوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کی مدد کریں۔ اللہ تعالی اس تعلیم کو پھیلانے میں جس کے پھیلانے کا فرض اس نے ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا ہے اور اپنی مخفی حکمتوں کے ماتحت ڈالا ہے مدد دے ۔ ہم جانتے ہیں کہ جب اس نے یہ فرض ہمارے کمزور کندھوں پر ڈالا ہے تو اسے پورا کرنے میں وہ مخفی ذرائع سے ہماری مدد بھی کر رہا ہے اور اگر وہ مخفی ذرائع آج ہمیں نظر نہیں آتے تو کل ضرور نظر آئیں گے۔ الفضل ۲۹ ۔ مارچ ۱۹۲۹ء ) التكوير : 11