خطبات محمود (جلد 12) — Page 72
خطبات محمود ۷۲ سال ۱۹۲۹ء محبت کی طرح دکھایا تو جاتا ہے لیکن باپ کی صورت میں نہیں بلکہ باپ کی محبت بتا کر اسے پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت داؤڑ کی شاعری اب بھی استعمال کی جاتی ہے حضرت سلمان کی دانائی اور حضرت موسیٰ کی تلوار سے اب بھی کام لیا جاتا ہے حضرت عیسی کی شفقت اب بھی استعمال کی جاتی ہے حضرت نوح کی پیشگوئیوں والی کڑک اب بھی موجود ہے حضرت ابراہیم کے علم کی شان اب بھی نمایاں ہے لیکن یہ سب چیزیں اپنے اپنے مقام پر ہیں اور ان سب میں سے گزار کر انسان کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو تعلیم حضرت نوح نے دی وہی حضرت ابراہیم نے پیش کی ۔ حضرت داؤڈ اور حضرت سلیمان نے بھی اسے ہی پیش کیا۔ و ہی حضرت موسی ، حضرت علیسی" اور رسول کریم ﷺ دنیا میں لائے لیکن ہر ایک نے اپنے اپنے زمانہ کی زبان کو استعمال کیا۔ فطرت انسانی کے پیدا کرنے والے خدا نے ہر زمانہ میں ترقی پانے اور نشو و نما حاصل کرنے والی فطرت انسانی کو پڑھا اور اس کے دماغ کوشولا اور جو جس اس کے دل کی باریک تاروں کو ہلانے والی تھی اس کو لیا اور اسی آلہ سے اس کے دل میں حرکت پیدا کی ۔ جس طرح ایک اچھا گویا پیانو (PIANO) بجاتے وقت وہی آلہ استعمال نہیں کرتا جس سے سارنگی بجاتا ہے۔ سارنگی وہ تار سے بجاتا ہے اور پیانوں انگلیوں سے ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو قانون قدرت کے گیت دنیا میں پیدا کرتا ہے جو اپنی پیدا کی ہوئی نیچر کی سریلی آوازیں نکالتا ہے اسی آلہ سے جو اپنے اپنے زمانہ میں دلوں کے باجے بہتر سے بہتر صورت میں بجانے کی قابلیت رکھتا تھا کام لیا۔ پس ہماری جماعت کو جو تبلیغی جماعت ہے جو دنیا کے اندر روح زندگی نہ مٹنے والی طاقت اور نہ دینے والا جوش اور نہ پست ہونے والے ارادے پیدا کرنے کے لئے مبعوث کی گئی ہے محسوس کرنا چاہئے کہ یہ زمانہ کس قسم کا ہے۔ جب تک وہ اس زمانہ کے مطابق اور مناسب حال ذرائع استعمال نہیں کرتی کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ بلا نا تو اس نے خدا کی طرف ہی ہے لیکن کامیابی اس زمانہ کے مطابق ذرائع استعمال کرنے سے ہی حاص حاصل ہو سکتی ہے ۔ یا د رکھو تم جال میں پانی نہیں ٹھہرا سکتے، تم لوہے کی چادروں میں سے سیال چیزوں کو نہیں چھان سکتے، تم آگ کے ذریعہ ٹھنڈک پیدا نہیں کر سکتے خدا تعالیٰ نے جو قانون بنایا ہے اس کے مطابق ہوگا اور جو انسان ان ذرائع کو استعمال نہیں کرتا ہے کرتا جو کسی کام کے لئے خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہے۔ کام ہیں وہ کامیاب بھی نہیں ہو سکتا ۔ بہت سے نادان ہیں جن کی نادانیوں کا شکار بعض عقلمند بھی ہو XXXXXXXX