خطبات محمود (جلد 12) — Page 61
خطبات محمود 41 سال ۱۹۲۹ء سے بھو ان کے دو سوال اور بھی ہیں جن کے جوابات میں مختصر ا دے دیتا ۔ ے دیتا ہوں ۔ ایک تو ۔ ایک تو یہ ہے کہ روزے رمضان میں ہی کیوں رکھوائے جاتے ہیں سارے سال پر ان کو کیوں نہ پھیلا دیا گیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک تو اتر اور تسلسل نہ ہو صحیح مشق نہیں ہو سکتی ۔ ہر مہینہ میں اگر ایک دو دن کا روزہ رکھ دیا جاتا تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ ایک وقت کے کھانے میں تو سیر وغیرہ کے باعث بھی دیر ہو جاتی ہے یا بعض اوقات اور مصروفیات کے باعث نہیں کھایا جا سکتا۔ مگر کیا اس بھوک پیاس کی برداشت ا برداشت کی عادت ہو جاتی ہے؟ حکومت بھی ٹریٹور با ریٹوریل والوں سے ایک مہینہ متواتر مشق کراتی ہے یہ نہیں کہ ہر مہینہ میں ایک دن ان کی دن ان کی مشق کے لئے رکھ دے۔ تو جو کام کبھی کبھی کیا جائے اس سے مشق نہیں ہو سکتی ۔ مشق کے لئے پیوستہ کام نہایت ضروری ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پورے ایک ماہ کے روزے مقرر فرمائے ۔ اس سوال کے اور بھی کئی جوابات ہیں مگر اس وقت میں اسی پر اکتفا کرتا ہوں ۔ ایک تو یہ فوائد ہیں جو روزے سے حاصل ہوتے ہیں لیکن اصل غرض انتقاء ہے جس کی مختلف بیسیوں صورتیں ہیں ۔ ڈاکٹر ذیا بیطس کے مریضوں کو چالیس دن متواتر فاقہ کراتے ہیں یہ نہیں کہ ہر مہینہ میں چار پانچ فاقے کرادیں کیونکہ ایسا کرنے سے کوئی فائدہ مریض کو نہیں پہنچ سکتا ۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ تراویح کیوں پڑھی جاتی ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ تراویح جو ہمارے ملک میں رائج ہیں یہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں نہیں پڑھی جاتی تھیں ۔ حضرت عمر نے ان کو جاری کیا ہے چونکہ تمام دن تمام دن روزے سے ہونے کے باعث کے باعث لوگ افطاری کے بعد کوفت دور کرنے کے لئے دیر تک باتیں کرتے رہتے تھے اور پھر تہجد کے لئے نہیں اُٹھ سکتے تھے اس لئے حضرت عمر نے حافظ اور قاری مقرر کر دیئے جو نماز عشاء کے بعد مسلمان کو قرآن سنایا کریں ۔ باقی اصل چیز تہجد ہے لیکن اس کا اس کا رمضان کے ساتھ کوئی خاص تعلق نہیں ۔ یہ فرض تو نہیں لیکن جسے خدا تعالیٰ توفیق ہے۔ دے اسے ضرور ادا کرنی چاہئے اور جو برداشت کر سکے اور ہر روز ہی تہجد کے لئے اُٹھنا چاہئے۔ اگر کوئی نہ اُٹھ سکے تو اسے تہجد کے وقت یونہی ذکر الہی کرنا چاہئے۔ بہر حال تہجد رمضان کے ساتھ صلى الله عليه رمضان مخصوص نہیں ہاں قرآن کریم کا زیادہ پڑھنا زیادہ پڑھنا مسنون ہے۔ رسول کریم ﷺ قرآن کریم کار میں دور کیا کرتے تھے اور حصہ نے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی آپ کو دور کرانے کیلئے آیا کرتے تھے ۔ اس کے اندر حکمت یہ ہے کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے کھانا پینا ترک کرتا ہے تو اس کے معنے یہ XXXXXXXXX