خطبات محمود (جلد 12) — Page 550
خطبات محمود ۵۵۰ سال ۱۹۳۰ء ہوئی حرکات ہیں کہ ہماری جماعت کو ۔ با قاعدہ مقدمہ چلائے بغیر اور بغیر اس کے کہ اپنے آپ کو حکومت حاصل ہو یوں کسی کو جان سے مار دینا اور چھپ چھپ کر گولیاں اور بم دغیرہ چلانا نہایت ہی غیر شریفانہ فعل ہے۔ اس طرح بعض جگہ ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ انگریز افسر جس پر حملہ کیا گیا وہ تو بچ گیا مگر دوسرا کوئی ہندوستانی ما را گیا۔ اسی واقعہ میں دیکھ لو گور نر تو بچ گیا مگر چانن سنگھ غریب مارا گیا اور یہ ایسی اخلاق سے گری اعت کو پورے زور کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔ یہ مت یہ سمجھو کہ ہم یہ کس طرح کر سکتے ہیں ۔ آخر یہ جتنی سازشیں ہوتی ہیں ہمارے ارد گر دہی ہوتی ہیں ۔ کوئی لاہور میں ہوتی ہے کوئی جہلم اور سیالکوٹ میں اور کوئی دوسرے اور شہروں میں ۔ اگر ہر جگہ کے آدمی اپنے کان گھلے رکھیں تو وہ بہت کچھ معلوم کر سکتے ہیں ۔ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ اس وباء کو ہندوستان سے نکال ، نکال دیں وگرنہ یہ حرکات ایک ایسے باب کو کھول دیں گی جس اسے روحانیت کا مقصد فوت ہو جائے گا۔ یہاں ایک سوال ہو سکتا ہے کہ پھر آزادی کس طرح حاصل ہو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا محمد رسول اللہ ﷺ نے بغیر قانون شکنی اور ایسے اخلاق سوز افعال کے ارتکاب کے آزادی حاصل نہ کی تھی ۔ کیا کفار مکہ انگریزوں سے کم ظالم تھے انہوں نے تو قسمیں کھا رکھی تھیں کہ مسلمانوں کے ہاتھ عام اشیائے خوردنی بھی فروخت نہیں کریں گے مگر انگریزوں نے تو کوئی ایسی حرکت نہیں کی بلکہ الٹا ہندوستانیوں کی طرف سے ان کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے اور وہ اس پر بھی کوئی گرفت براہ راست نہیں کرتے ۔ اگر ایسی ترغیبات کی وجہ سے کسی کو گرفتار کرنا ہوتا ہے تو اس کے لئے بھی کوئی نہ کوئی قانون کی آڑ ضرور لے لیتے ہیں۔ تو ایسے ظالموں کی حکومت صلى الله عروسة کے ماتحت رسول کریم لے رہے اور ان کے انتہائی مظالم کو نہایت استقلال سے برداشت کیا پھر خدا تعالیٰ نے خود ہی ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ انہیں آزادی مل گئی ۔ یہی انگریز ایک زمانہ میں اٹلی کے ماتحت تھے اور بظاہر آزادی کی کوئی صورت نہ تھی مگر ا اگر اٹلی میں بغاور بغاوت ہو گئی اور تمام فوجیں وغیرہ وہاں سے لے جانی پڑیں اور انہوں نے اس ملک کو بالکل چھوڑ دیا بلکہ انگریز کہتے بھی رہے کہ ہمیں کیوں چھوڑ گئے مگر انہوں نے اس طرف کوئی توجہ نہ کی ۔ پس اگر ہم اللہ تعالیٰ کو خوش کر لیں تو وہ خو تو وہ خود بخود آزادی کے سامان پیدا کر سکتا ہے خدا کے اختیار میں سب کچھ ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے مگر یہ شرط ہے کہ ہم اس کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوں دوسروں کے دلوں کو وہ خود بخود ہی موم کر دے گا ڈاکٹر کلارک والے مقدمہ کے موقع پر گورداسپور میں ایک