خطبات محمود (جلد 12) — Page 520
خطبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۰ء حکومت سے زندگی بسر کر سکے یا صرف علم اور دین کی وجہ سے دوسروں کی امداد کا مختار ج نہ رہے بلکہ بیسیوں چیزیں ایسی بنائی ہیں کہ انسان ان کا محتاج ہے ۔ اقسام کے لحاظ سے بھی ان گنت ہیں اور اعداد کے لحاظ سے تو اُن کی گفتی انسانی طاقت سے باہر ہے۔ درحقیقت خدا تعالی نے انسان کے لئے لا تعداد احتیا جیں پیدا کی ہیں جن کی غرض یہی ہے کہ بندہ کو ہر وقت خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا جائے اور ان کا مقصد یہ بتانا ہے کہ کسی انسان کی ضرورتیں پورے طور پر کوئی بندہ پوری نہیں کر سکتا۔ خص بیمار ہوتا ہے ھر تمام لوگ اس کی تیمار داری میں مصروف ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ وہ ایسا بیمار ہوتا ہے کہ ایک ساعت کی غفلت بھی اسے سخت تکلیف میں مبتلا ء کر دیتی ہے۔ دنیا میں کونسا انسان ایسا ہو سکتا ہے جس پر ایک ساعت کی غفلت بھی نہ آتی ہو۔ اگر کسی کے بیوی بچے سارا دن اور رات اُس کی تیمار داری کرتے ہوئے جاگتے رہیں ۔ تو ایسا ہو سکتا ہے اور ہوتا رہتا ہے کہ اٹھارہ یا میں گھنٹے جاگنے کے بعد اونگھ آنے لگتی ہے اور غفلت طاری ہو جاتی اس وقت اگر درد ہو رہا ہو تو اس میں شدت پیدا ہو جاتی ہے اگر پیچش کی تکلیف ہو تو اُس میں اضافہ ہو جاتا ہے اگر بخار ہو تو اس کی تکلیف بڑھ جاتی ہے گویا عین اُس وقت جب بیمار کی ضرورتیں زیادہ ہو جاتی ہیں اُس کے تیمارداروں کی تھکاوٹ زیادہ بڑھ جاتی ہے بلکہ اگر کوئی چست و چالاک آدمی بھی ہوتا ہے اور بیمار کی مدد کرنے کے لئے بالکل تیار رہتا ہے۔ تو بھی باوجود اس کے ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ وہ وقت پر مدد نہیں کر سکتا ۔ اس وقت مجھے ایک مثال یاد آ گئی کچھ عرصہ ہوا یوپی کا گورنر با وجود اس عزت واعزاز کے جو ایک صوبہ کے گورنر کو حاصل ہوتا ہے امداد حاصل نہ کر سکا۔ وہ بیمار ہوا اُسے دل کا ضعف ہوا اور وہ چلتے چلتے گر اڈاکٹر ساتھ تھا اور ہر طرح کی امداد کرنے کے لئے تیار تھا وہ دوڑا تاکہ پچکاری کرنے کا سامان لائے لیکن اس کے آتے آتے گورنر کی جان نکل گئی ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جب مدد دینے والا آدمی بھی موجود ہو سامان بھی موجود ہو تو بھی انسان ہر چیز کو جس سے مدد مل سکتی ہے فورا نہیں پکڑ سکتا۔ وہ ڈاکٹر بہت ہوشیار آدمی تھا اور اتفاق ایسا ہوا کہ وہ احمد ی تھا۔ اُس نے اپنا سارا زور لگایا کہ جہاں وہ چیزیں پڑی ہیں جن سے مددمل سکتی ہے اُن تک پہنچے اور انہیں لائے مگر باوجود اس کے کہ انتہائی کوشش کی گئی وہ نہ لتی وہ نہ لا سکا اور گورنر فوت ہو گیا۔ ایسے وقت میں سوائے خدا تعالی کے کون سا انسان ہے جو کسی کی مدد کر سکے ساری