خطبات محمود (جلد 12) — Page 477
خطبات محمود ۴۷۷ ۵۸ سال ۱۹۳۰ء ہمارا سب سے پہلا فرض دعوت الی اللہ ہے فرموده ۱۵ اگست ۱۹۳۰ء ) تشهد تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسان کتنی ہی احتیاط سے کوئی بات کرے پھر بھی میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کو اس کے متعلق غلط فہمی ہو جاتی ہے اور جب تک متواتر تفصیل اور وضاحت سے بات نہ سمجھائی جائے بہت سے لوگ اس کے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ میں نے پچھلے دنوں میں اور اتفاق یہ ہے کہ پچھلے ہی جمعہ کے خطبہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہمارے احباب ان مصائب میں جو عام مسلمانوں پر پڑتے پڑتے ہیں اور جو خواہ ہماری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ۔ د رکھتے ہوں ایسا ہمدردانه رویه یہ اختیار کریں۔ ہیں جو دوسرے مسلمانوں کی راہنمائی کا موجب ہو اور مسلمانوں ہو اور مسلمانوں میں ایسی تحریک اتحاد کی رو چل پڑے جس کے ماتحت وہ مشترک امور میں اپنے اختلافات بُھول کر ایک دوسرے کی تائید اور تقویت کے لئے تیار ہو جائیں۔ میں مسلمانوں کے تفرقہ اور شقاق کو دیکھتے ہوئے ایک عرصہ سے یہ نصیحت کرتا آیا ہوں اور اتفاق ایسا ہوا کہ پچھلے جمعہ خطبہ اس پر پڑھا لیکن ساتھ ہی یہ کہتا چلا آیا ہوں کہ یہ امر ہمارے لئے دوسرے درجے پر ہے ۔ اصل فرض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے وہ اشاعت اسلام اور تبلیغ احمدیت ہے اور جب تک مشترکہ امور میں اتحاد کا کام ہمارے اس فرض میں روک نہیں بنتا جب تک یہ کام ہماری قوتوں کو کمزور نہیں کرتا اور جب تک یہ کام ہمارے ارادوں کو اصل فرض سے جد انہیں کرتا اُس وقت تک ہم ہر طاقت وقوت اور ہر ذریعہ اس کے کامیاب بنانے کے لئے