خطبات محمود (جلد 12) — Page 45
خطبات محمود ۴۵ سال ۱۹۲۹ء جماعت کے دوست جلد اس طرف توجہ کریں۔جلسہ کے موقع پر جو اعلان کیا گیا تھا اس پر پچیس تیس کے قریب دوستوں کے نام لکھائے ہیں مگر یہ بہت قلیل تعداد ہے۔تمام جماعت کے امراء اور سیکرٹریوں کو چاہئے کہ خاص جلسے کر کے یہ تحریک کریں اور جو اصحاب نام لکھا ئیں ان کی اطلاع دیں۔مگر اس بات کا خیال رہے کہ اگر کوئی تاجر ہے تو تاجر کو احمدی بنائے۔اگر کوئی اعلیٰ عہدہ پر ہے تو اسی درجہ کے آدمی کو بنانے کی کوشش کرے یہ نہیں کہ وہ کسی چپڑاسی سے بیعت کا خط لکھا دے۔اپنی حیثیت کے لحاظ سے اسی حیثیت کے آدمی کو تبلیغ کرنی چاہئے۔ایمان کے لحاظ سے تو تمام انسان برابر ہیں کوئی چھوٹا بڑا نہیں مگر سیاسی لحاظ سے جو شخص کسی قسم کا اثر رکھتا ہے اس کے احمدی ہونے سے بہت بڑا فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ اس کا دوسروں پر اثر ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کے حلقہ اثر میں احمدیت پھیل سکتی ہے۔پس ہر شخص اپنے طبقہ کو لے اور اس میں سے احمدی بنائے تا کہ جماعت کی ترقی ہر طبقہ میں یکساں طور پر ہو۔زمیندار زمینداروں کو احمدی بنا ئیں افسر افسروں کو احمدی بنا ئیں، مزدور مزدوروں کو احمدی بنا ئیں عالم عالموں کو احمدی بنائیں اگر اس سال ایک ہزار آدمی کم از کم ایک ہزار لوگوں کو ہی احمدیت میں داخل کر لیں تو بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے چونکہ انہیں تبلیغ کرنے کی مشق ہو جائیگی اس لئے اگر پہلے سال ایک آدمی کو احمدی بنائیں گے تو اگلے سال دو تین کو بنا سکیں گے۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تبلیغ کا شوق تو رکھتے ہیں مگر اس کا ڈھنگ نہیں جانتے۔جب وہ اقرار کریں گے کہ کم از کم ایک آدمی کو احمدی بنائیں گے اور پھر اس کے لئے کوشش کریں گے اور ایک آدمی کو احمدی بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے تو پھر اوروں کو تبلیغ کرنا ان کے لئے آسان ہو جائے گا۔پس میں جماعت کے دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ خواہ وہ عالم ہوں یا معمولی پڑھے لکھے، پیشہ ور ہوں یا زمیندار تاجر ہوں یا ملازم ہر طبقہ کے لوگ اپنے آپ کو پیش کریں اور اقرار کریں کہ اپنے طبقہ میں سے کم از کم ایک شخص کو احمدی بنانے کی کوشش کریں گے اور پھر جلد سے جلد اس عہد کو پورا کریں۔ریز روفنڈ کے متعلق دیکھا گیا ہے کہ جنہوں نے جلدی اپنے وعدہ کا ایفاء کی وہ تو کامیاب ہو گئے مگر جنہوں نے یہ خیال کیا کہ سال کے ختم ہونے تک پورا کر لیں گے وہ رہ گئے۔اس عہد کو پورا کرنے کے لئے بھی جو دوست جلدی کریں گے وہی کامیاب ہو سکیں گے ورنہ جو یہ کہیں گے کہ گل پورا کر لیں گے ان کا کل کبھی نہیں آئے گا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑے گی۔پس کوئی دوست اس عہد کے ایفا ء کو