خطبات محمود (جلد 12) — Page 453
خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۰ء مان جاؤ وگرنہ ابھی تم پر یہ پہاڑ گرا دیا جائے گا مگر وہ کہہ سکتے ہوں کہ ہم نہیں مانیں گے ۔ ان کی تو یہ حالت تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طور پر جانے پر انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر لی تھی لیکن جب حضرت موسیٰ علیہ السلام واپس آئے تو انہیں دیکھ کر ان کی جان نکلی جا رہی تھی ۔ ان میں یہ ہمت کہاں تھی کہ سر پر پہاڑ کرتا دیکھ کر کہہ سکیں ہم نہیں مانتے ۔ یہ ان معنوں کے غلط ہونے کے لئے قرآن کریم کی شہادت ہے۔ دوسری شہادت بائیبل کی ہے اور وہ یہ کہ بائیبل میں صرف یہ ذکر ہے کہ وہ پہاڑ کے ہ پہاڑ کے نیچے آ کھڑے ہوئے تھے ے ہوئے شے ہائکیل کا معجزات بیالا کرنے کرنے میں یہ حال ہے کہ اگر حضرت عیسی نے کسی کو ایک روٹی دی ہو تو وہ روٹیوں کا پہاڑ بیان کرتی ہے۔ اگر ایک بیمار کو اچھا کیا ہو تو وہ بتائے گی کہ ایک قبرستان کے تمام مردوں کو زندہ کر دیا۔ پس ایسی کتاب جو چوہیا کا ہاتھی بیان کرنے کی عادی ہے کسی طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اتنے بڑے معجزہ کو چھوڑ جاتی ۔ بائیبل میں مبالغات بہت ہیں ۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کے متعلق وَهُمْ الرف آتا ہے لیکن وہ لاکھوں بیان کرتی ہے۔ پھر کئی کئی سو سال سے کم عمر کسی نبی کی بیان نہیں کرتی ۔ اگر تو یہ بات قرآن کریم میں چھوٹی ہوتی اور بائیبل میں بڑی تو کہا جا سکتا تھا کہ قرآن کریم نے اصل واقعہ بیان کیا ہے اور بائیبل نے مبالغہ سے کام لیا ہے لیکن یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم مان لیں کہ قرآن کریم میں زیادہ بڑھا کر بیان کیا گیا مگر بائیل نے کم بیان کیا ۔ اس کی تو یہ حالت ہے کہ اگر حضرت موسی کے نشان کے طور پر خدا تعالیٰ ایک معمولی سی چٹان اُٹھا کر لوگوں کے سر پر رکھ دیتا تو بائیبل ہمیں بتاتی کہ ہمالیہ اُٹھا کر رکھ دیا گیا تھا مگر وہاں صرف یہ بیان ہے کہ وہ لوگ گئے اور پہاڑ کے دامن میں جا کھڑے ہوئے پھر زلزلہ آیا اور پہاڑ ہل گیا۔ بائیل میں تو صرف یہی ذکر ہے۔ ہاں جس طرح مسلمانوں میں عجیب و غریب باتیں حدیثوں کے نام سے مشہور ہیں اسی طرح ان کے ہاں بھی ایسی روایات ہیں مگر وہ یروشلم کی تباہی بلکہ حضرت سلیمان کی بعثت کے بھی بعد بنائی گئی ہیں۔ ایسی روایات میں سے ایک میں اس قسم کا ذکر ہے لیکن توریت میں قطعا نہیں ۔ پس توریت میں مبالغہ تو ہم تسلیم کر سکتے ہیں لیکن مقاصرہ ہرگز نہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ تاریخی طور پر بھی یہ معنی غلط ہیں ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بعض لوگ قرآن کریم سے استنباط کرتے ہیں کہ وہ مردے زندہ کیا کرتے تھے لیکن وہی الفاظ قرآن کریم میں رسول کریم کے متعلق بھی موجود ہیں مگر وہاں وہ معنے نہیں کرتے اسی طرح رفع