خطبات محمود (جلد 12) — Page 450
خطبات محمود ۴۵۰ سال ۱۹۳۰ء غرض یہ قصے کہانیاں ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے پہاڑ کو اٹھا کر لوگوں کے سروں پر رکھ دیا ہو۔اگر اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو پھر مُردہ کے زندہ کرنے سے کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے۔اگر ڈلہوزی کا پہاڑ معہ مکانات اور انگریزوں کے بنگلوں اور تمام دوسرے مکانات اور سامانوں کے اٹھا کر سر پر اس لئے رکھ دیا جا سکتا ہے کہ ابھی مانو وگر نہ گرایا جائے گا تو کیوں مُردہ زندہ نہیں کیا جا سکتا۔لیکن یہ باتیں قطعی طور پر اسلام اور احمدیت کے خلاف ہیں اور احمدیت کی جڑ پر تبر کا حکم رکھتی ہیں کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ معجزات تو ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن مرزا صاحب نے اپنی کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے ان سے انکار کر دیا۔اور اگر ہم قرآن سے ایسے معنی کریں گے تو دشمن کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ قرآن سے تو ایسے معجزات خودان کے نزدیک بھی ثابت ہیں مرزا صاحب نے صرف اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے ان سے انکار کیا۔پھر جماعت کے بعض لوگ جن کا علم وسیع نہیں سمجھیں گے کہ یہ ٹھیک ہے جو پیغامی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی نہ تھے کیونکہ نبی تو ایسے معجزات دکھاتے ہیں اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں دکھائے۔کچھ تو اس ابتلاء میں پڑ جائیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی نہ تھے اور جو نبوت پر یقین رکھتے ہیں ان میں سے کئی آپ کے معجزات کو بیان کرنے میں مبالغہ آرائی شروع کر دیں گے اور آہستہ آہستہ وہ معجزات وہی رنگ اختیار کر لیں گے جو پہلے انبیاء کے معجزوں کو دے دیا گیا ہے اور بوجہ جھوٹ ہونے کے خدا تعالیٰ کے نزدیک لعنت کا باعث بن جائیں گے۔بعض کمز ور طبع لوگ دوسروں سے متاثر ہو کر ایسا کر لیتے ہیں۔میں جب حج کے لئے گیا تو میرے ساتھ ایک صاحب اور تھے انہوں نے جہاز میں ایک عرب کو تبلیغ شروع کی۔میں الگ بیٹھا ہوا قادیان خط لکھ رہا تھا۔اس عرب نے دریافت کیا کیا مرزا صاحب نے کوئی معجزہ بھی دکھایا ہے۔انہوں نے جواب دیا ہاں بہت معجزے دکھائے ہیں۔اُس نے کہا کوئی معجزہ بیان کرو۔اب انہوں نے لیکھرام والا معجزہ بیان کرنا شروع کیا اور ایسی طرح بیان کیا کہ وہ بالکل ایک نئی بات بن گئی۔انہوں نے کہا ایک شخص بُت پرست تھا اس نے حضرت مرزا صاحب سے مقابلہ کیا انہوں نے کہا کہ یہ شخص فلاں سال فلاں مہینے فلاں دن اور ٹھیک اتنے بجے قتل کر دیا جائے گا آخر ایسا ہی ہوا۔انہوں نے جو اس طرح بیان کرنا شروع کیا تو میں خط لکھنا چھوڑ کر اُس کی طرف متوجہ ہو گیا۔