خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 449

خطبات محمود ۴۴۹ سال ۱۹۳۰ء مسیح موعود علیہ السلام کے معجزات کی اس کے مقابل میں کچھ قدر نہیں رہتی۔بے شک یہ صحیح ہے کہ فائدہ کے لحاظ سے آپ کے معجزات پھر بھی بہت بڑھے ہوئے ثابت ہوں گے مگر عام لوگ تو یہی کہیں گے ہم تمہارے فائدہ کو کیا کریں جیسے نمایاں معجزات وہ ہیں ویسے تمہارے نہیں۔جو مزا پتھر کو سونٹا مار کر چشمے جاری کر دینے میں آسکتا ہے وہ یہاں نہیں۔اتفاق سے تو ہزاروں گھر ایسے نکل سکتے ہیں کہ جن میں طاعون نہ آئی اور وہ محفوظ رہے مگر اس میں اتفاق کا کوئی دخل نہیں کہ جیب سے پتھر نکالا اور سونٹا مار کر چشمے جاری کر دیئے۔یہ تو اتفاقاً ہوسکتا ہے کہ کوئی بیمار دعا سے اچھا ہو جائے لیکن پہاڑ کو اُٹھا کر سر پر رکھ دینے میں کوئی اتفاق کا دخل نہیں۔تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ معجزات اگر فی الواقع اسی طرح ظاہر ہوئے ہوتے تو نشان کے لحاظ سے وہ بہت نمایاں ہوتے اور پھر اس صورت میں تو کسی شخص کو انکار کی جرات ہی نہ ہو سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے معجزات پر بحث کرتے ہوئے اس امر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ آپ نصرت الحق میں فرماتے ہیں۔در حقیقت معجزات کی مثال ایسی ہے جیسے چاندنی رات کی روشنی جس کے کسی حصہ میں کچھ بادل بھی ہو مگر وہ شخص جو شب کور ہو جو رات کو کچھ دیکھ نہیں سکتا اس کے لئے یہ چاندنی کچھ بھی مفید نہیں۔ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوا کہ اس دنیا کے معجزات اسی رنگ سے ظاہر ہوں جس رنگ سے قیامت میں ظہور ہو گا۔مثلاً دو تین تو مُردے زندہ ہو جائیں اور بہشتی پھل ان کے پاس ہوں اور دوزخ کی آگ کی چنگاریاں بھی پاس رکھتے ہوں اور شہر بہ شہر دورہ کریں اور ایک نبی کی سچائی پر جو قوم کے درمیان ہو گواہی دیں اور لوگ ان کو شناخت کرلیں کہ در حقیقت یہ لوگ مر چکے تھے اور اب زندہ ہو گئے ہیں۔اور وعظوں اور لیکچروں سے شور مچا دیں کہ در حقیقت یہ شخص جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے سچا ہے۔سو یا د رہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر نہیں ہوئے۔اور نہ آئندہ قیامت سے پہلے کبھی ظاہر ہوں گے۔اور جو شخص دعوی کرتا ہے کہ ایسے معجزات کبھی ظاہر ہو چکے ہیں وہ محض بے بنیاد قصوں سے فریب خوردہ ہے اور اس کو سنت اللہ کا علم نہیں۔اگر ایسے معجزات ظاہر ہوتے تو دنیا دنیا نہ رہتی اور تمام پر دے کھل جاتے اور ایمان لانے کا ایک ذرہ بھی تو اب باقی نہ رہتا ہے