خطبات محمود (جلد 12) — Page 441
خطبات محمود ۱ سال ۱۹۳۰ء تاکید ہونی چاہئے تو ہیڈ ماسٹر کہے گا تم خود پانچ کی جگہ پچاس نمازیں پڑھو تمہیں کوئی منع نہیں کرے گا اور سارا دن قرآن پڑھتے رہو کوئی نہیں روکے گا لیکن یہ بچہ ابھی نا واقف ہے اس کا دماغ ایسا نہیں جو فیصلہ کر سکے کہ عیسائیت اختیار کرے یا اسلام یا کسی اور مذہب کو یاد ہر یہ ہی رہے ہم اسے آزاد تعلیم دیتے ہیں پھر بڑا ہو کر جو مذہب اسے پسند ہو گا اختیار کر لے گا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جسے کوئی مذہبی تعلیم نہ دی جائے گی وہ دہر یہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ کے متعلق علم علم با باہر ہر ۔ سے آتا ہے اور ایسے لڑکے جب بڑے ہوتے ہیں تو وہ پورے دہر یہ نکلتے ہیں ۔ پس جتنی زیادہ کوئی قوم حریت کی تعلیم دینے والی ہو گی اتنی ہی زیادہ اس میں قواعد کی پابندی ہوگی ۔ اور جب تک انسان دنیا میں ہے اسے قانون کی پابندی کرنی ہی پڑے گی کیونکہ اس کے بغیر انسانیت قائم ہی نہیں رہ سکتی اور یہ ایک ایسی چیز ہے جس کی خوبی کا انکار نہیں ہو سکتا۔ پس وہ تحریک جو قانون کی جڑھ پر تیر رکھتی ہے وہ کبھی مفید نہیں ہو سکتی ۔ دنیا میں خواہ کوئی تحریک بھی ہو یہ بات سب میں مشترک ہے کہ انسان کے لئے قانون کی پابندی اشد ضروری ہے۔ چور اور ڈا کو بھی قانون کی پابندی سے آزاد نہیں ۔ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے میں نے ایک چور سے پوچھا چوری کرنے کے لئے کتنے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس نے کہا اچھی کامیاب چوری کے لئے کم از کم پانچ آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے کہا پانچ آدمیوں میں سے اگر کوئی مال کھا جائے تو کیا ہوگا ۔ اس نے کہا کہ ایسے بد دیانت کو ہم سخت سزا دیں گے۔ تو چور اور ڈاکو بھی ایک قانون کے پابند ہوتے ہیں یعنی قانون شکنوں میں بھی قانون کی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ انارکسٹ جو بظاہر خطر ناک قانون شکن ہوتے ہیں ان میں بھی اتنی پابندی ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی ممبر کے ذمہ لگائیں کہ کسی شخص کو مار دے تو اس پر دو تین نگران مقرر کرتے ہیں کہ اگر وہ اس سے قاصر رہے تو اسے قتل کر دیں ۔ غرض قانون کی پابندی ایک ایسی چیز ہے جو انسان سے کسی صورت میں بھی جد انہیں ہو سکتی اس کے بغیر مذہب، سیاست، تمدن غرضیکہ کچھ بھی باقی نہیں رہتا ۔ جو قانون شکنی کرتے ہیں ان کے لئے بھی بعض حد بندیاں ہوتی ہیں مگر کانگریس تو بغیر کسی حد بندی کے قانون شکنی کی تعلیم دیتی ہے اس لئے کوئی قوم بھی جو تعصب سے اندھی نہ ہو جائے وہ اس تحریک کی حمایت نہیں کر سکتی ۔ اس تحریک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں مذہب کے خلاف جوش بڑھ رہا ہے پنڈت جواہر لال نہرو نے تو اعلان کیا ہے کہ میرا سب سے اولین مقصد یہی ہے کہ