خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 437

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء گہرا تعلق نہ ہوا تو ہماری وہی مثال ہو گی ” نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔دنیا ہمیں چھوڑ چکی ہے کیونکہ ہم منہ سے کہتے ہیں ہم دنیا کے نہیں بلکہ خدا کے ہیں۔اس طرح ہماری زبانوں نے تو دنیا کو دشمن بنا لیا لیکن اگر ہمارے دلوں نے خدا کو دوست نہ بنایا تو ہمارے لئے کون سی جگہ ہو گی۔پس آؤ کوشش کریں کہ ہمارے دل خدا تعالیٰ کو دوست بنا ئیں اور اگر ہم دل سے خدا تعالیٰ کو اسی طرح دوست بنانے میں کامیاب ہو گئے جس طرح زبانوں سے دنیا کو دشمن بنا چکے ہیں تو یقیناً ہماری فتح میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔اس وقت دشمنوں کی دشمنیاں اور معاندین کی عداوتیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی کیونکہ خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ہوتا ہے دشمن کی دشمنی اس کی شان بڑھانے کا ہی موجب ہوتی ہے گھٹانے کا نہیں۔ایک ایسا انسان جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے نہ ہو دشمن جب اسے گرفت کرتا ہے تو وہ نقصان اٹھاتا ہے لیکن جس کا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو دشمن کی دشمنی سے اُس کی شان بڑھتی ہے۔رسول کریم ﷺ کو دیکھ لو۔سب سے زیادہ آپ کی شان لو۔ظاہر کرنے والے وہی مواقع ہیں جب زیادہ دشمنوں نے آپ کو گھیرا۔جنگ بدر احد غزوہ حنین اور احزاب یا جب آپ جنگل میں اکیلے سوئے ہوئے تھے اور صحابہ کرام بھی اس خیال سے کہ اس علاقہ میں ہمارا کوئی دشمن نہیں اطمینان سے سور ہے تھے اُس وقت ایک دشمن آیا اور تلوار ہاتھ میں لیکر آپ کو جگایا اور پوچھا بتاؤ اس وقت تمہیں کون بچا سکتا ہے۔ایسے موقع پر جب جان بچنے کی بظاہر کوئی صورت نہ تھی آپ نے نہایت سادگی سے جب یہ جواب دیا کہ اللہ تعالی۔تو وہ کانپ اُٹھا اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔پھر آپ کے عفو کو دیکھ کر وہ مسلمان ہو گیا۔سے تو مؤمن کی شان کا زیادہ مظاہرہ اُسی وقت ہوتا ہے جب جان کیلئے زیادہ خطرہ ہو اور دراصل مؤمن اور غیر مؤمن میں یہی فرق ہے کہ دشمن کے منصوبہ سے غیر مؤمن کی طاقت کم ہوتی ہے مگر مومن کی طاقت اور بھی بڑھتی ہے اور وہ نئی طاقت اور شوکت لیکر نکلتا ہے۔اس واقعہ سے ہی جماعت کی ایمانی حالت بہت بڑھ گئی ہے۔ایک دوست نے لکھا ہے میرے اندر پہلے زیادہ نشستی تھی مگر اب میں دیکھتا ہوں گویا ایک نیا انسان بن گیا ہوں اسی طرح ایک اور نے بیان کیا۔میں اپنے اندر ایک نئی روحانی زندگی محسوس کرتا ہوں۔پس اللہ تعالیٰ کا فضل جب شامل ہو تو ہر مصیبت میں بہتری کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔ہم پر متواتر حملے کئے جا رہے ہیں پہلے گندے سے گندے اتہامات لگائے گئے اور اب موت کی خبر مشہور کی گئی مگر خدا تعالیٰ