خطبات محمود (جلد 12) — Page 427
خطبات محمود ۴۲۷ سال ۱۹۳۰ء دانت بھی نہیں رہے لیکن جس دن وہاں ہڑتال ہوئی وہ اکیلے گئے اور لوگوں کی دُکانیں کھلواتے رہے حالانکہ وہ پہلے قید بھی ہو چکے تھے اور انہیں ایسے موقع پر دخل دینے کے باعث ہاتھ لگ چکے تھے لیکن انہوں نے کوئی پرواہ نہیں کی اور پوری کوشش سے کام لیکرڈ کا نیں کھلواتے رہے اور ان کی تحریک پر کئی مسلمانوں نے اپنی دُکانیں کھول بھی دیں اور بھی کئی ایک مقامات پر ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے میں قیاس بھی نہیں کر سکتا کہ احمدی بر دل ہو گئے ہیں ۔ کس قدر شرم اور افسوس کی بات ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے جبر و تشد داور ظلم ہور ہے رہا ہو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے عملی صورت اختیار کر رہے ہوں اور ہم اس وجہ سے چپ چاپ بیٹھے رہیں کہ لوگ ناراض ہو جائیں گے ۔ لوگ ہمارے دوست کس دن ہوئے تھے اور پھر ہم نے کب لوگوں کی پوجا کی کہ یہ خیال کریں آج وہ ہمارے دوست ہیں ایسا نہ ہو کل دشمن ہو جائیں ۔ کوئی نہ کوئی جماعت تو ہمارے مقابلہ پر ضرور ہی رہتی آئی ہے اور نبیوں کی جماعتوں کے متعلق ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ہمارے ساتھ بھی ایسے ہی ہوتا رہے گا جب تک کہ ساری دنیا احمدی نہ ہو جائے ۔ یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو جماعت سست ہو جائے ۔ کیا منٹگمری کے مسلمانوں او اں اور ہندوؤں میں یہ طاقت ہے کہ وہ احمد ! ہے کہ وہ احمدیوں کیلئے امن پیدا کر دیں۔ احمدیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کام میں سستی کر کے مقامی ہندو مسلمانوں کی مخالفت سے بچ بھی گئے تو اللہ تعالیٰ ان کیلئے کوئی اور دُکھ پیدا کر دے گا تا وہ غافل نہ ہو جائیں ۔ مومن کبھی بر دل نہیں ہوتا اس لئے ایسے خیالات دل میں نہ لانے چاہئیں۔ اس تحریک سے مسلمانوں کا صریح نقصان ہو رہا ہے اور اگر اسی طرح ہوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب ان کی وہی حالت ہوگی جو سپین میں ہوئی ۔ کیا تم اس نظارہ کو محض اس لئے برداشت کرنے کیلئے آمادہ ہو کہ کوئی تمہیں گالی نہ دے یا پتھر نہ مارے۔ کیا تمہارے بھائیوں نے کابل میں پتھر نہیں کھائے ۔ جب انہوں نے پتھر کھا کھا کر اپنی جان دے دی اور پتھر مارنے والوں کو دعائیں دیتے اور تبلیغ کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو تم میں سے کوئی کیوں بزدلانہ خیالات کو دل میں جگہ دے۔ یاد رکھو ہر وہ پتھر جو خدا تعالیٰ کی بات منوانے اور مسلمانوں کی ہمدردی کرنے کی وجہ سے پڑتا ہے وہ پتھر نہیں پھول ہے ایسے پتھر مبارکبادی کے پھول ہیں جو خدا تعالیٰ پھینکتا ہے۔ اس لئے ان سے ڈرنا نہیں بلکہ خوش ہونا چاہئے کہ ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنے بندے کو عزت دیتا ہے ۔