خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 421

خطبات محمود ۴۲۱ سال ۱۹۳۰ء جس طرح گورنمنٹ ظلم کر کے کامیاب نہیں ہو سکتی اسی طرح رعایا بھی ظلم سے دوسروں کو مجبور کر کے کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔لیکن اس وقت یہ حالت ہے کہ اگر گورنمنٹ پولیس کے ذریعہ سختی کر رہی ہے تو کانگریس والنٹیئروں کے ذریعہ۔یہ کہاں کی شرافت ہے کہ کہا جائے کہ اخبار بند کر دو وگرنہ ہم تمہارے دروازے کے آگے لیٹ جائیں گے حالانکہ جو کسی کے دروازے کے سامنے آ کر لیٹتا ہے وہ خود مجبور کرتا ہے کہ اس کے اوپر سے گزرا جائے۔اگر کوئی آدمی ہمارے مکان کے دروازہ کے آگے لیٹ جائے اور کہے میں تمہیں کھانے پینے کی اشیاء باہر سے نہیں لانے دوں گا تو دوسرے الفاظ میں وہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم پانی پینے کے لئے اس کے اوپر سے گزر جائیں۔کانگریس اس طریق کو جائز قرار دیتی ہے لیکن اگر گورنمنٹ بھی اور نہیں تو مذاقاً ہی اس طریق کو اختیار کر لے تو کانگریس کو پتہ لگ جائے۔گاندھی جی کو پکڑنے کی کیا ضرورت ہے ان کے دروازے کے سامنے پولیس کو لٹا دے جو کہے چونکہ تمہارا وجود ملک کے لئے مضر ہے اس لئے ہم تمہیں باہر نہیں جانے دینا چاہتے اور اگر تم جانے پر مُصر ہو تو ہمارے اوپر سے گزر کر جاؤ۔اگر تو گاندھی جی اوپر سے نہ گزریں تو معلوم ہو جائے گا کہ پالیسی صحیح ہے لیکن اگر کانگریس کے والٹیئر راستہ میں لیٹنے والوں کو مار کر بھگانا چاہیں تو معلوم ہو جائے گا کہ یہ پالیسی بالکل غلط ہے۔کیوں نہ گورنمنٹ بھی ایسا ہی کرے مثلاً کانگریسی لیڈروں میں سے اس وقت پنڈت موتی لال نہرو آزاد ہیں ان کے مکان کے آگے پولیس کے آدمی کھڑے کر دیئے جائیں جو کہیں چونکہ آپ کا گھر سے باہر نکلنا ملک کے لئے مضر ہے اس لئے آپ اندر ہی بیٹھے رہیں اور اگر آپ باہر جانا چاہیں تو ہمارے اوپر سے گزر کر جائیں اس طرح معلوم ہو جائے کہ یہ لوگ خود کیا طریق اختیار کرتے ہیں۔پس یہ پالیسی نہایت غلط ہے اور میں نہیں سمجھتا کوئی عقلمند انسان اس بات کو تسلیم کر سکے کہ یہ کہنا کہ اگر تم اپنا اخبار بند نہ کرو گے تو میں مرجاؤں گا جائز اور معقول بات ہے۔اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ اگر کا نگر میں اپنی شورش بند نہ کرے گی تو میں مر جاؤں گا تو پھر کانگریس کیا کرے گی۔اگر ایک شخص کے فاقہ کرنے سے دوسرے کو مجبور ہو جانا چاہئے کہ اپنا کام کاج چھوڑ دے تو آج ہی کانگریس کا کام بند کرایا جا سکتا ہے۔اصل میں تو یہ کوئی طریق نہیں۔پرانے زمانے کے ہندوؤں میں ایسا ہوتا تھا کیونکہ ان کے ہاں براہمن کی موت بہت بڑا پاپ سمجھا جاتا تھا۔چینی بالخصوص اس خیال کے ہیں حتی کہ کہتے ہیں کہ برہما جی سے جو خود خدا ہے ایک