خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 419

خطبات محمود کرنے لگ جائیں ۔ ۱۹ سال ۱۹۳۰ء یہ کہنا کہ تم ہمارے مخالف ہو اور دسم دشمن ہو یہ شکست خوردہ لوگوں کا طریق ہے۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کو سونٹے سے منوانے کی کوشش کرنا اور کوئی شریف اور باغیرت انسان سونٹے سے کوئی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتا ۔ یہ خیال غلط ہے کہ ہماری جماعت چونکہ بہت تھوڑی ہے اس لئے اگر ایسی زبردست تحریک کے مقابلہ میں اُٹھے گی تو نقصان اُٹھائے گی جو قوم مر نے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اسے کوئی نہیں مار سکتا ۔ مرتی وہی قوم ہے جو زندگی سے پیار کرتی ہے جو لوگ موت کو آسان سمجھتے ہیں انہیں دنیا سے کوئی نہیں مٹا سکتا ۔ وہ اپنے اندر ایسی طاقت رکھتے ہیں جو بڑھتی ہے لیکن گھٹتی نہیں۔ پس ان حالات میں اگر ہم دخل دیتے ہیں تو کسی کا حق نہ نہیں کہ ہم سے ناراض ہو بلکہ ملک کے امن کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کے خیالات کا اظہار ہو۔ میں جب ولایت سے آیا تو گاندھی جی سے تبادلہ خیالات کا انتظام کیا انہوں نے بڑی مہربانی کی ۔ وہ دتی میں تھے لیکن بمبئی آ گئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کا نگریس کمیٹی کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی کہتے ہیں اور آل انڈیا میں ہم بھی شامل ہیں لیکن کانگریس میں ہمیں نہیں لیا جاتا۔ ہم بھی ویسے ہی ہندوستانی ہیں جیسے آپ پھر کیوں ہمیں کا کانگریس میں شامل نہیں ہونے دیا جاتا اس صورت میں کانگریس آل انڈیا نہیں کہلا سکتی اگر سو میں سے ننانوے شامل اور صرف ایک باہر ہو تو بھی یہ آل انڈیا نہیں کہلا سکتی مگر یہاں تو یہ بات سرے سے ہی غلط ہے کہ اس میں ننانوے فیصدی شامل ہیں۔ لیکن اگر ہوں تو بھی ایک فیصدی کا حق ہے کہ کہے جب تک مجھے شامل نہ کیا جائے یہ تمام ۔ ملک کی نمائندہ نہیں کہلا سکتی اس لئے ہر شخص کو کانگریس میں داخل ہونے کی اجازت ہونی چاہئے اور معاملات کا تصفیہ کثرت رائے سے کیا جانا چاہئے ۔ اختلاف ہر ملک میں موجود ہوتا ہے اور ہر قوم میں لوگ مختلف الخیال ہوتے ہیں۔ انگلستان میں ہی دیکھو کبھی کنزرویٹو (CONSERVATIVE) اقتدار پکڑ جاتے ہیں کبھی لبرل اور کبھی لیبر ر لیکن یہ کبھی نہیں ہوا کہ مقتدر جماعت دوسروں کو پارلیمنٹ میں داخل نہ ہونے دے بلکہ وہ سب اکٹھے بیٹھ کر ہر معاملہ پر غور کرتے ہیں اور کثرت رائے پر عمل کرتے ہیں۔ اور اس صورت میں جو پارٹی بر سر اقتدار ہو وہ دوسری جماعتوں کے ٹیکس بھی اپنے حسب حسب منشاء وصول اور خرچ کرتی ہے اسی طرح کانگریس میں بھی جن لوگوں کی اکثریت ہو وہ دوسروں کا روپیہ بھی اپنے حسب منشاء خرچ