خطبات محمود (جلد 12) — Page 415
خطبات محمود ۳۱۵ (۵۳) سال ۱۹۳۰ء ہم سیاسیات میں کیوں دخل دیتے ہیں فرموده ۳۰ - مئی ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : چونکہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے اور ہم نے اپنا مقصد اور اپنا مدعا تبلیغ اسلام قرار دے رکھا ہے اور دوسری تمام ضرورتوں کو پیچھے ڈال رکھا ہے اس لئے براہ راست سیاسیات سے ہمارا تعلق نہیں لیکن جب ملک میں کوئی و با آتی ہے تو وہ سب کو لپیٹ لیتی ہے خواہ کوئی جماعت چھوٹی ہو یا بڑی اور خواہ وہ دوسرے لوگوں سے تعلق رکھنے والی ہو یا علیحدہ رہنے والی ۔ جب آگ لگتی ہے تو دوست دشمن کے گھر کی کوئی تمیز روا نہیں رکھتی اس لئے وہ تغیرات جو اس وقت سیاست میں پیدا ہو رہے ہیں اور وہ ہیجان جو اس وقت سیاسی لوگوں کے قلوب میں پایا جاتا ہے ہماری جماعت پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اگر ہماری ہماری جماعت کے لوگ خود متاثر نہ ہوں تو بھی دوسرے لوگ انہیں خاموش نہیں بیٹھنے دیتے۔ جب ان کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں گھر میں اور باہر ان کے دوست اور عزیز واقارب ہر وقت ان کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہے ہوں اور انہیں ان سوالات سے تنگ کر رہے ہوں جو اس وقت سیاست میں پڑنے والے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں تو پھر وہ کسی صورت میں بھی خاموش نہیں بیٹھ سکتے اور انہیں مجبوراً جواب دینا پڑتا ہے اور وجہ بتانی پڑتی ہے کہ وہ کیوں اس سے علیحدہ ہیں بلکہ بعض امور میں اس کے خلاف عمل کرنے پر بھی آمادہ ہیں ۔ کہتے ہیں دو شخص نہر کے کنارے جا رہے تھے کہ نہر میں ایک ریچھ سردی کی وجہ سے ٹھٹھر اہوا