خطبات محمود (جلد 12) — Page 412
خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۳۰ء سے انہیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے تا وہ ایسی غلطیوں کے مرتکب نہ ہوں جو بعد میں زیادہ پشیمانی کا باعث ہوں ۔ اسلامی تاریخ میں اس کی مشہور مثال غزوہ حدیبیہ ہے جب رسول کریم عمرہ کے لئے گئے تو مکہ والوں نے آپ کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ اُس وقت مسلمانوں کے جذبات حد درجہ مشتعل تھے حتی کہ حضرت عمر جیسا انسان بھی قابو سے باہر ہو گیا۔ صلى الله آپ حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور کہا کیا ہم سچے نہیں ؟ کیا ہم جانیں دینے سے ڈرتے ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تو ہو کہ ہم عمرہ کریں گے لیکن ہم یہاں صلح کر لیں ۔ باقی صحابہ کا بھی جوش کے مارے مارے ایسا ایسا برا برا ۔ حال تھا کہ رسول کریم ﷺ کی کی بیویوں میں سے ایک کی روایت ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں نے لوگوں سے کہا ہے احرام کھول دو لیکن لوگ سستی اور بد دلی سے ادھر اُدھر پھر رہے ہیں تمہارا اس وقت کیا مشورہ ہے۔ انہوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ آپ کسی سے کلام نہ کریں اور احرام کھول کر اپنی قربانی کے جانوروں کو ذبح کر دیں چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا اور جب صحار اہی کیا اور جب صحابہؓ نے دیکھا کہ جو حکم آپ نے ، پ نے ہمیں دیا اور جس کے کرنے میں ہم نے تساہل سے کام لیا آپ نے خود کرنا شروع کر دیا ہے تو وہ بھی بے تحاشا دوڑے اور ان فرائض کو ادا کیا جن کی ادائیگی کی طرف ان کی جو شیلی طبائع پہلے راغب نہیں ہوتی تھیں ہے تو قومی اور وطنی جذبات بعض وقت نازک صورت اختیار کر لیتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ حالانکہ یہ قول اُسی وقت خطرہ سے خالی ہو سکتا ہے جب انسان گلیۂ خدا تعالٰی کی راہنمائی میں ہو اور خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چل رہا ہو وگر نہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ خدا تعالی کے احکام کی بھی پرواہ نہیں کرتا ۔ پس ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے بلکہ دوسروں کو بھی سمجھانا چاہئے کہ دنیا میں حکومت بعض ذرائع سے ہی قائم ہوتی ہے۔ حکومت کو ماننا انسانی فطرت میں ایسے طور پر داخل نہیں کہ ہر وقت اسے منوا لیا جائے بعض اوقات بچے بھی حکومت ماننے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ پس یہ بات بالکل غلط ہے کہ بیرونی حکومت کے احکام کو نہیں مانا جا سکتا اور اپنی حکومت سے انکار نہیں کیا جا سکتا بسا اوقات طبائع اپنی حکومت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کر دیتی ہیں ۔ آئر لینڈ کو جب انگریزوں نے حقوق دینے چاہے تو وہاں بسنے والے انگریزوں نے کہہ دیا ہم یہ بات ہرگز نہیں مان سکتے ۔ تو بعض دفعہ ملکی بلکہ بعض دفعہ تو مذہبی حکومت سے بھی سرکشی کر لی جاتی ہے حالانکہ سب سے زیادہ XXXXXXXXX