خطبات محمود (جلد 12) — Page 398
خطبات محمود ٣٩٨ سال ۱۹۳۰ء اس کے ساتھ ہی میں گورنمنٹ کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہ نہ سمجھے چونکہ عدل اور مذہبی احکام کی پابندی کی وجہ سے بعض جماعتیں اس کی اعانت کے لئے تیار ہیں تو وہ جو چاہے کرے۔کیونکہ اگر قیام امن کے لئے اسلام نے حکومت سے تعاون کا حکم دیا ہے تو قرآن میں یہ بھی موجود ہے کہ اگر کوئی حکومت ظلم اور تعدی سے باز نہ آئے تو خدا تعالیٰ اس کو تباہ کر دیتا ہے۔پس اگر گورنمنٹ یہ دیکھ کر کہ عدل و انصاف سے کام لے کر کوئی قوم اس سے ہمدردی رکھتی ہے ظلم کرے گی اور اس تعاون سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گی۔تو اس کے اوپر ایک اور حکومت موجود ہے جو اتنی زبر دست اور طاقتور ہے کہ یہ اس کے مقابلہ میں مچھر اور لکھی جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔پس وہ اس بات کا خیال رکھے کہ خدا ہے اور اگر اس نے اس ہمدردی سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی تو وہ سخت انتقام لے گا۔ہم قیام امن کے لئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں مگر اس کے یہ معنے ہرگز نہیں کہ ہم اپنے ملک کو آزاد کرانا نہیں چاہتے یا یہ کہ ہمارے نزدیک ہندوستانیوں کو اپنے ملک پر اپنے حسب منشاء حکومت کرنے کا حق نہیں۔ہماری جماعت ہر قربانی کر کے امن قائم رکھنے کی کوشش کرے گی لیکن گورنمنٹ کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ظلم و تعدی نہ کرے کیونکہ اس صورت میں خدا تعالیٰ کی نصرت اس کے ساتھ نہ ہوگی۔اور میں کانگریس کو بھی یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی جبر سے کام لینا چھوڑ دے کیونکہ یہ حرکت اس کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا موجب ہوگی۔جو کوئی خود ظلم کرتا ہے وہ دوسرے کو جبر کی تعلیم دیتا ہے۔اگر کانگریسیوں کے لئے جبرا غیر ملکی کپڑے کا بائیکاٹ کرانا جائز ہے تو کیوں انگریزوں کو جبر اہندوستان پر حکومت کرنے کا حق نہیں۔جب ہم خود جبر شروع کر دیں تو انگریزوں کے جبر کے خلاف کس طرح آواز بلند کر سکتے ہیں۔ہاں جب یہ اصول پوری طرح قائم رکھا جائے کہ جبر نہیں کیا جائے گا تو پھر انگریز سے بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہماری مرضی کے مطابق حکومت کرد جبر کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ساتھ ہی میں اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی نصرت بے شک ہمارے شامل حال ہے لیکن کئی غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جو نصرت سے بالکل محروم کر دیتی ہیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتے رہیں کہ پردہ پوشی فرمائے اور ہمیں اپنی رضاء کے رستوں کی توفیق عطا کرے۔ہمارا اصل کام تبلیغ ہے لیکن موجودہ فضاء میں کوئی ہماری باتوں کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا اس لئے ہم مجبور ہیں کہ اس ہوا اور فضاء کو صاف کریں۔پس خدا تعالیٰ سے دُعا کرتے ہیں