خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 394 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 394

خطبات محمود ۳۹۴ سال ۱۹۳۰ء انسانوں کا ڈر مٹایا جائے ۔ چنانچہ قرآن کریم میں واضح طور پر واضح طور پر یہ حکم ہے کہ غیر اللہ کا خوف دل سے نکال دیا جائے ۔ سورۃ بقرہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَإِيَّايَ فَارْهَبُونَ ۔ کہ ان لوگوں سے کہہ دو اور پھر کہہ دو کہ مجھ سے اور صرف مجھ سے ہی ڈریں۔ تو دوسروں کے خوف کے تمام خیالات کو دل سے مٹا دینا اسلام کا اولین مقصد ہے حتی کہ سب سے رُعب والی ہستیاں جن کا خوف جائز ہو سکتا تھا یعنی ابنیاء ان کا خوف بھی مٹا دیا گیا۔ قرآن کریم میں بار بار رسول کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کہہ دو هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً کے یعنی میں بھی تمہاری طرح کا ہی ایک بشر ہوں گویا اسلام نے خدا تعالیٰ کے سوا ہر چیز کا خوف دل سے نکال کا حکم دیا ہے۔ اور شرک کے معنے ہی درام ہی دراصل یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف یا محبت صلى دینے کا ته دل میں انہ ہو۔ ہر وہ محبت اور خوف جو خدا کے بغیر ہے وہ شرک ہے۔ پس جو کسی سے محبت کرتا ہے بغیر اس کے کہ خدا نے اس کی اجازت دی ہے وہ شرک کرتا ہے اور جو کوئی کسی سے ڈرتا ہے بغیر اس کے کہ خدا تعالیٰ نے اس کی اجازت یا حکم دیا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے۔ ہاں انبیاء کے لئے خدا تعالٰی نے ادب اور احترام کا حق رکھا ہے لیکن وہ بھی خدا تعالیٰ کے لئے ہی ہے ان کی ذات کے لئے نہیں ۔ رسول کریم اللہ کے متعلق بار بار فرمایا وہ بھی بشر ہیں اور ہماری طرح کے انسان ہیں ہاں خدا کا نائب ہونے کے لحاظ سے ان کا ایک رُعب قائم قائم کیا ۔ یہ رعب اس لئے نہیں کہ آپ قریش تھے اس لئے نہیں کہ آپ کے اندر ذاتی قابلیت ایسی تھی کہ دوسرے مرعوب ہو جاتے یا کسی اور ذاتی جوہر کے لحاظ سے نہیں بلکہ محض اس لئے کہ آپ خَلِيفَةُ اللَّهِ عَلَى الْأَرْضِ اور خدا تعالیٰ کے نائب ہیں ۔ مگر یہ رُعب اور خوف بھی اسی حد تک ہے جو خدا اور بندوں کے تعلقات میں حائل نہ ہو۔ ورنہ کوئی ہستی خواہ کتنی بڑی ہو خدا تعالیٰ یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس کے اور اس کے بندہ کے تعلقات میں دوسرا حائل ہو وہ اپنے بندوں سے براہ راست تعلق رکھتا ہے۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور جو اس پر عمل کرتا ہے وہ مؤمن ہے اور جو نہیں کرتا وہ مؤمن نہیں کہلا سکتا۔ پس مؤمن کو کوئی بات بھی کسی انسان کے ڈر سے ہرگز نہیں کرنی چاہئے اور نہ چھوڑنی چاہئے ۔ میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے قلوب میں ایسی جرآت، بہادری اور دلیری پیدا کریں جس کی وجہ سے وہ نہ گورنمنٹ سے ڈریں اور نہ رعایا ہے ۔ مؤمن صرف ایک ہی ہستی سے ڈر سکتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی ہستی ۔ ہے اس کے سوا زمین اور آسمان کی کوئی چیز اسے نہیں ڈرا سکتی۔ پس جب