خطبات محمود (جلد 12) — Page 377
خطبات محمود ۳۷۷ سال ۱۹۳۰ء صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے انسان کے سامنے بیسیوں رستے کھلے ہوتے ہیں ایک طرف جنبہ داری کا رستہ ہوتا ہے، دوسری طرف عدم انصاف کا رستہ تیسری طرف رحم اور شفقت کا رستہ چوتھی طرف ذاتی تعلقات کا رستہ پھر قومیت اسے ایک طرف بلاتی ہے انصاف دوسری طرف سے آواز دیتا ہے اُس وقت وہ حیران ہوتا ہے کہ کدھر جائے ۔ تب عالم الغیب خدا ہی اس کی راہنمائی کر سکتا ہے اس کے آگے جب انسان جھک جاتا اور کہتا ہے ۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اے خدا! اس وقت میرے سامنے بیسیوں قسم کے رستے ہیں ۔ اور مختلف جذبات مجھے مختلف راہوں کی طرف بلا رہے ہیں مختلف تفکرات جہات دکھا رہے ہیں، میری عقل اور میرا عرفان، میری دنیوی ضرورتیں اور تعلقات اور رستہ دکھا رہے ہیں ان میں سے کونسا رستہ درست ہے؟ میں نہیں جانتا اس لئے تیری طرف جھکتا ہوں اور تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ تو مجھے سیدھا رستہ دکھا اور مستقیم رستہ بتا تب وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ اس وقت ہماری بھی یہی حالت ہے ہم ہر وقت ہی خدا کی مدد کے محتاج ہیں ۔ مگر آج ایسی سے گزر رہے ہیں کہ نہیں جانتے کہ کیا کریں۔ یہ نہیں کہ ہمارے لئے سب کہ بند نہیں بلکہ اتنے راستے گھلے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کونسا راستہ اختیار کریں ۔ جہاں حالت رے لئے سب رہتے بند ہیں رستہ بند ہوتا ہے وہاں اتنا خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ وہاں انسان ٹھہر تو جاتا ہے مگر ہمارے لئے بہت سے راستے گھلے ہیں ایسی حالت میں ہم نہیں جانتے جانتے کیا کریں اور کیا نہ کریں ۔ اس وقت ہمارے لئے ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ سورۃ فاتحہ جسے ہم روز تمیں پینتیس دفعہ پڑھتے ہیں اس میں ایسا درد اور سوز پیدا کر دیں کہ وہ ہمارے لئے بالکل نئی چیز بن جائے ۔ اور ہم ایسا عجز اور انکسار اختیار کریں کہ سورۃ فاتحہ نئی زندگی بخشنے والی دوا ہو جائے جس سے ایک طرف تو ہمارے دل کو ٹھنڈک حاصل ہو اور دوسری طرف ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن جائیں ۔ ہم جانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ کیا ہوا ہے کہ صحیح راستہ کے دونوں طرف خطر ناک گڑھے ہوتے ہیں اس کے ایک طرف غضب الہی ہوتا ہے اور دوسری طرف گمراہی اور ضلالت ۔ کبھی تو انسان صرف قشر کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور حقیقت سے بے بہرہ ہو جاتا ہے اور بھی صرف روحانیت کی طرف جھک جاتا ہے اور قشر کو بالکل نظر انداز کر دیتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں بتایا ہے کہ یہ راستہ خطر ناک ہے۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے دونوں طرف دو غاریں ہیں کچھ