خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 373

خطبات محمود ٣٧٣ سال ۱۹۳۰ء کریں کیونکہ جب تک مخالفت نہ ہو ترقی بھی نہیں ہو سکتی۔تمام انبیاء کی جماعتیں ایک ہی جیسی ہوتی ہیں پہلوں میں ہم سے زیادہ ایمان نہ تھا اور اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے ویسے ہی مُرسل ہیں جیسے کہ دوسرے انبیاء تو اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان کی اور دوسرے انبیاء کی جماعتوں میں بھی یکرنگی ضروری ہے۔ان جماعتوں کی ترقی بھی پوری طرح اُسی وقت ہوئی جب مخالفین کی طرف سے ان پر عافیت تنگ کی گئی۔جب ان کی زندگی کو تلخ کر دیا گیا تو وہ بھی بیدار ہوئے اور جب دیکھا کہ ہماری تباہی کیلئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا تو انہوں نے مخالفین کو تباہ کر دیا اور ان کی مشتعل کردہ آگ میں خود جلنے کی بجائے انہیں کو جلا کر رکھ دیا۔پس ان ابتلاؤں سے جو اس وقت ہماری جماعت پر آ رہے ہیں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہاری آنکھیں کھول دے اور بتادے کہ تمام دنیا تمہاری دشمن ہے اور ہم اُس وقت تک آرام سے نہیں رہ سکتے جب تک دنیا کو اپنے رنگ میں رنگین نہ کر لیں اور اگر مخالفت کی یہ آگ بھی جماعت کی آنکھیں کھولنے کا باعث نہ ہوئی تو خدا تعالی اس آگ کو اور زیادہ بھڑکائے گاھٹی کہ باپ کا بیٹا اور بھائی کا بھائی دشمن ہو جائے گا۔تمہارے لباسوں میں آگ ہوگی تمہارے گھروں میں آگ ہوگی اور تمہاری چار پائیوں میں بھی آگ ہوگی اور تمہیں اپنے چاروں طرف آگ ہی آگ نظر آئے گی۔اُس وقت آرام سے کوئی نہ سو سکے گا اور ہر ایک مجبور ہو جائے گا کہ اس مشتعل شدہ آگ کو بجھائے۔پس بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ تمہارے ہر ایک ذرہ ذرہ میں آگ لگا کر تمہیں بیدار کرے خود بخود بیدار ہو جاؤ اور پیشتر اس کے کہ آگ لگ جائے اپنے اوپر خدا تعالیٰ کی رحمت کا پانی چھڑک کر اس سے محفوظ ہو جاؤ کیونکہ جس طرح آگ پر پانی پڑنے سے وہ بجھ جاتی ہے اسی طرح اگر کسی چیز پر پانی پڑا ہو اور وہ گیلی ہو چکی ہو تو اس پر بھی آگ اثر نہیں کرتی۔پس میں اس موقع پر کہ مختلف جماعتوں کے نمائندے یہاں موجود ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کی واپس جا کر تبلیغ کے پہلو کو جلد از جلد مضبوط کرنے کی کوشش کریں اور دیوانہ وار اس کام میں لگ جائیں تا اللہ دیکھ لے کہ ان کے اندر آگ لگانے کی آب ضرورت نہیں اور وہ مخالفت کی اس آگ کو بجھا دے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ان فرائض کو کما حقہ ادا کر سکیں جن کی ادائیگی ہمارے ذمہ لگائی گئی ہے۔(الفضل ۲۵۔اپریل ۱۹۳۰ء) متنی باب ۵ آیت ۳۹۔بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ ۱۹۹۴ء (مفہونا)