خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 368

خطبات محمود ۳۶۸ سال ۱۹۳۰ء ہے وہ جھوٹا ہے لیکن اس کا خط بعینہ ان خطوط کی تحریر سے ملتا تھا جو پکڑے گئے تھے ۔ چنانچہ ان خطوط میں خلیفہ کی بجائے خیلفہ لکھا تھا اور اس میں بھی اسی طرح تھا اور بھی تمام غلط الفاظ اسی طرح لکھے تھے جس طرح ان خطوط میں تھے اس لئے میں اس کے بھی اخراج کا اعلان کرتا ہوں۔ باقیوں کے متعلق بھی تحقیقات یقات ہو رہی ہے ان میں سے دو کے متعلق ا سے دو کے متعلق اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہو تو وہ پیش کرے۔ ایک تو یہی منشی عبد الکریم اور دوسرا میاں عبد اللہ جلد ساز ان دونوں کا ان سے تعلق یا کوئی اور بات اگر کسی نے دیکھی ہو تو وہ پیش کرے وگرنہ ان کو بری قرار دیا جائے گا اور وہ ا وہ الزام کے نیچے نہیں ہوں گے۔ لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جھوٹی گواہی دینا سخت مجرم ہے جس کے متعلق جھوٹی گواہی دی ہی دی جائے وہ تو بے شک پکڑا جائے گا جائے گا لیکن اسے تو دنیوی سزا ملے سزا ملے گی لیکن گواہی لواہی دینے والے کی سزا اُخروی اور بہت زیادہ خطرناک ہوگی اور اس طرح اگر کوئی بچی گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کے متعلق قرآن کے آن کریم کا یہ ارشاد ہے کہ فَإِنَّهُ ائِم قَلبه شے یعنی اس کے دل پر زنگ لگ جاتا ہے اور وہ نیکی سے محروم رہ جاتا۔ ے محروم رہ جاتا ہے اس لئے اگر گواہی کو چھپاؤ گے جیسا کہ بعض نے چھپائی ہے۔ انہوں نے پہلے تو اطلاع دی لیکن عدالت میں انکار کر دیا اور اگر چہ ان پر ہم نے اُس وقت مقدمہ تو نہیں چلا یا لیکن ان کا نام منافقوں میں ضرور لکھ لیا گیا ہے اور اگر اب بھی کسی نے چھپائی اور بعد اس کے کسی دوست نے جس سے وہ پہلے بات کر چکا ہو اس کا اظہار کر دیا تو اُس کو بھی ساتھ ہی شامل کر لیا جائے گا اس لئے جو کسی کو کسی مرد یا عورت کے متعلق کوئی بات ایسی معلوم ہو وہ رپورٹ کرے خصوصیت سے عبداللہ جلد ساز اور منشی عبدالکریم کے متعلق۔ لیکن یہ بھی یاد رکھے کہ اگر کسی پر جھوٹا الزام لگائے گا تو خود گنہگار ہوگا ۔ ( الفضل ۱۶ ۔ اپریل ۱۹۳۰ء ) میں ے ملاپ ۱۰۔ اپریل المبسوط الشمس الدين السرخسي جلد ۹ صفحه ۱۰۵ مطبوعہ مصر ۱۳۲۴ھ بخاری کتاب المناقب باب المناقب وقول الله تعالى يايهالناس انا خلقنكم من ذكر وانثى الدخان: ۵۰ بخارى كتاب الاذان باب ما يُحْقَنُ بالاذان من الدماء الانفال: ۵۸ ك الانفال : ٦٦ البقرة : ۲۸۴ XXXXXX