خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 367

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء ہیں تو کہہ دیتے ہیں ہم تو صلح کے لئے آئے تھے۔پس آپ لوگ ان باتوں کا خیال ترک کر دیں اور ان افواہوں کو بالکل اہمیت نہ دیں۔دلیر آدمی اپنے اندر برداشت کی قوت رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ اگر دوسرے نے ایک دو تھپڑ پہلے مار لئے تو بھی میرا کوئی نقصان نہیں آخری ضرب میری ہی ہوگی جو اس کا فیصلہ کر دے گی۔پس اگر وہ آتے ہیں تو ان کے آنے کا انتظار کرو اور آنے کے بعد پہلا موقع گورنمنٹ کو دو اور جب اپنی باری آئے تو میں ہر احمدی سے یہی امید کرتا ہوں کہ پیٹھ نہ دکھائے۔تیسری بات میں منافقین کے متعلق کہنی چاہتی ہوں۔بعض منافقین کے متعلق میں نے تحقیقات کرائی ہے ان میں سے بعض کے کاغذات تو مکمل ہو چکے ہیں اور بعض کے ہو رہے ہیں۔ایک شخص شیخ فتح محمد منیجر سٹور پر الزام تھا کہ وہ مستریوں سے بھی تعلق رکھتا ہے اور سلسلہ کے خلاف بھی باتیں کرتا رہتا ہے اور یہ الزام گواہیوں سے بھی پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے اگر چہ انہوں نے اس تعلق کی تشریح یہ کی ہے کہ میں ان سے سٹور کا قرضہ لینے کے لئے ملتا تھا۔لیکن یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ مباہلہ میں سنور کے حسابات وغیرہ پر اعتراضات ہوتے رہے ہیں اور یہ قیاس نہیں کیا جا سکتا کہ جو کوئی ان سے روپیہ لینے جاتا ہو اور ان کے خلاف دعویٰ رکھتا ہو وہ ایسی باتیں ان سے کرتا ہو۔پس یقیناً ان سے ان کا تعلق تھا خصوصاً جبکہ گواہیوں سے ثابت ہے کہ وہ مباہلہ کے مضامین کی تائید کرتے رہے ہیں اور اس کے پڑھنے کا لوگوں کو مشورہ دیتے رہے ہیں۔پس میں ان صاحب کے اپنی بیعت سے خارج اور جماعت سے قطع تعلق کا اعلان کرتا ہوں۔دوسرا شخص عبدالعزیز ہے جو یہاں دفتر بیت المال میں کلرک اور منشی عبد الکریم بٹالوی جو اب نا بینا ہیں ان کا لڑکا ہے اس کے متعلق بھی قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ اس کا تعلق ان لوگوں کے ساتھ رہا ہے اگر چہ اس نے غذرات بھی پیش کئے ہیں لیکن وہ ایسے ہی ہیں جیسے ہر ایک مجرم جو گرفت ہونے پر پیش کیا کرتا ہے اس لئے میں اسے بھی بیعت سے خارج اور جماعت سے علیحدہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔تیسر می ایک لڑکی ہے جو اسی منشی عبد الکریم کی بیٹی اور عبد العزیز کی ہمشیرہ ہے اس کے متعلق بھی یہ الزام ثابت ہو چکا ہے اس کے بعض خطوط پکڑے گئے ہیں جن میں مستریوں کی تائید کی گئی ہے۔میں نے جب پچھلے دنوں عورتوں کے درس میں بعض عورتوں کے متعلق اعلان کیا تو اس نے خود ہی گھبرا کر مجھے خط لکھا کہ میرے متعلق جس نے آپ سے کچھ کہا