خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 364

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء بہت شریف آدمی ہے۔ان نام نہا د مظلوموں نے قسم قسم کے ظالمانہ طریق اختیار کر رکھے ہیں اور انہوں نے ہماری جماعت کے لوگوں پر حملے کرنے بھی شروع کر دیئے ہیں۔چنانچہ بٹالہ سے اطلاع آئی ہے کہ ان لوگوں کے بعض حامی شیخ عبدالرشید صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کے مکان میں زبردستی ٹھس گئے ان کا اسباب توڑ پھوڑ دیا اور انہیں اور ان کے لڑکے کو زدو کوب کیا۔اس واقعہ سے جماعت میں بہت جوش پیدا ہوا ہے اور بعض دوستوں نے مجھے لکھا ہے کہ سُنا ہے اس طرح ہمارے بھائیوں کو تنگ کیا جا رہا ہے بلکہ یہاں بھی وہ جتھے لانے کا ارادہ کرتے ہیں پھر ہم یہاں کیوں بیٹھے رہیں، کیوں نہ خود ہی ان کے گھر چلے جائیں اور کہیں لو جو کرنا ہے کر کے دیکھ لو۔میں ان دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ بے شک مؤ منانہ غیرت کا تقاضا یہی ہے جس کا انہوں نے اظہار کیا ہے لیکن اسلام کی تعلیم یہ بھی ہے کہ اُس وقت تک خاموش رہو جب تک دوسرا ہاتھ نہ اُٹھائے۔رسول کریم ﷺ جب جنگ کے لئے جاتے تو پہلے حملہ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ مخفی حملہ بھی نہیں کرتے تھے اور حملہ سے پیشتر اذان دیتے تھے کے یہاں تک کہ شاید حضرت عمر یا کسی اور خلیفہ کے زمانہ میں مسلمانوں اور عیسائیوں میں جنگ کے موقع پر دو تین دن تک فوجیں چُپ چاپ آمنے سامنے پڑی رہیں۔مسلمان تو پہلے حملہ کرتے ہی نہ تھے اور عیسائی ان کی طرف سے حملہ کے منتظر تھے۔آخر عیسائی سپہ سالار نے کسی سے دریافت کیا یہ لوگ کیوں حملہ نہیں کرتے۔اس پر اُسے بتایا گیا کہ ان کے نبی کی یہ سنت ہے کہ پہلے مخالف کے حملہ کا انتظار کرواس پر اُس نے اپنی فوج کو حملے کا حکم دیا۔تو ہمارے نبی کریم ﷺ کی سنت ہے کہ پہلے حملہ نہ کیا جائے اس لئے خواہ کتنا جوش ہو اُسے دباؤ اور ابتداء نہ کرو۔لیکن جب دشمن حملہ کرے تو پھر میں ہر احمدی سے یہی توقع رکھوں گا کہ وہ پیٹھ نہ دکھائے بلکہ ایسا جواب دے جس کے متعلق قرآن کریم میں آتا بے فَشَرِدْبِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ " یعنی نہ صرف وہ مخالف بلکہ ان کے وہ لوگ بھی جو گھروں میں بیٹھے ہوں ڈر سے کانپ اُٹھیں۔لیکن میں نہیں سمجھتا کہ سارا بٹالہ ہی شرافت سے خالی ہے وہاں بھی ایسے شرفاء آباد ہیں جیسے یہاں ہیں۔صرف چند ایک بدمعاش اور شریر لوگ ہیں باقی اکثر شریف ہی ہیں مگر وہ شرافت اس کو سمجھتے ہیں کہ بدمعاشوں کے آگے نہ بولیں۔اگر چہ شرافت کا یہ معیار غلط ہے لیکن عام طور پر ایسا سمجھا جاتا ہے۔باقی یہ غلط ہے کہ بٹالہ میں تمام کے تمام بد معاش آباد ہیں۔ہر شہر میں اسی طرح شریف لوگ رہتے ہیں جس طرح قادیان میں۔