خطبات محمود (جلد 12) — Page 360
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء سمجھ لیں گے کہ وہ جو کچھ لکھ رہے ہیں جائز اور درست لکھ رہے ہیں۔اسی طرح جو لوگ مباہلہ کرنے کو کہتے ہیں ان سے میں پوچھتا ہوں کہ کیا اس قسم کا مباہلہ اسلام میں جائز ہے اور کیا ہند و مباہلہ کو سیح مانتے ہیں۔ویدوں کی سچائی کے متعلق مباہلہ کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تمام عمران کو دعوت دیتے رہے۔اگر وہ مباہلہ کو درست سمجھتے تھے تو کیوں ان میں سے کوئی سامنے نہ آیا اور جب بعض آریہ لیڈروں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعائے مباہلہ شائع کی تو انہوں نے کیوں یہ جواب دیا کہ ہمارے ہاں مباہلہ جائز نہیں۔اور اب مباہلہ کے لئے مستریوں کی تائید کر رہے ہیں۔تو کیا وہ اسے جائز سمجھنے لگ گئے ہیں اور کیا اِس وقت وہ ویدوں کی سچائی پر مباہلہ کے لئے تیار ہیں؟ اگر ہیں تو ان کی یہ تحریریں مبنی بہ صداقت سمجھی جاسکتی ہیں۔لیکن اگر نہیں تو ان کی یہ تائید جھوٹی، فریب اور محض ہماری دشمنی کی وجہ سے ہے۔اور جو مسلمان مستریوں کے مطالبہ مباہلہ کے مؤید ہیں ان سے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ وہ اپنے علماء سے دلیل کے ساتھ فتوے شائع کرائیں کہ فلاں امام یا اس کے متبع کے قول سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی پر حدود کے متعلق الزام لگائے تو الزام لگانے والے کو جائز ہے کہ مباہلہ کا چیلنج بھی دے سکے۔اس پر میں ہر ایک ایسی مثال کے لئے جو وہ پیش کریں گے سو رو پید انعام دوں گا۔پھر یہ بھی شرط نہیں کہ حنفی حنفی کا ہی قول پیش کریں بلکہ حنفی بے شک مالکیوں، حنبلیوں بلکہ شیعوں کا ہی پیش کر دیں وہ چاروں اماموں یا ان کے شاگردوں اور اہل بیت یا ان کے شاگردوں میں ہے جس کا چاہیں حوالہ اس بارہ میں پیش کر دیں کہ حدود والے گناہوں کا الزام لگانے والا مباہلہ کا چیلنج دے سکتا ہے اور ہر مثال کے لئے میں سو روپیہ انعام دوں گا۔میرا اپنا جو مذہب ہے وہ تو قرآن کریم کی بناء پر ہے اور میں کسی کی رائے کی وجہ سے اسے بدل نہیں سکتا۔لیکن میر اعلم یہی کہتا ہے کہ پہلوں نے بھی اسے جائز نہیں بتایا۔پس میں ہر ایک عالم کو چیلنج دیتا ہوں کہ کسی امام یا اہل بیعت یا ان کے کسی بڑے شاگر د یا شاگردوں کے کسی بڑے شاگر د یا مشہور فقیہ کا نام پیش کرے جس نے اس صورت مباہلہ کو جائز قرار دیا ہو اور میں ہر نام جو پیش کیا جائے گا اس پر سو روپیہ دونگا۔اور اگر اس تیرہ سو سال کے عرصہ کے اندر کسی ایک بھی ایسے شخص کا نام وہ پیش نہ کرسکیں اور آئمہ و فقہاء ان کے شاگردوں اور ان کے شاگردوں پھر ان کے بھی شاگردوں کے شاگردوں میں سے کسی ایک کا بھی وہ فتوی نہ شائع کر سکیں تو انہیں ڈوب مرنا چاہئے کہ میری دشمنی کی وجہ سے وہ تیرہ سو سال کے