خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 34

خطبات محمود ۳ سال ۱۹۲۹ء طرح میرا حق ہے کہ اپنے عقائد کی اشاعت کروں اسی طرح ”سیاست“ کا بھی حق ہے کہ جس بات کو وہ درست نہیں سمجھتا اس کی تردید کرے ۔ ”سیاست“ نے بے شک اعتراض کئے لیکن تمسخر اور استہزاء نہیں کیا، تحقیر اور تذلیل نہیں کی۔ اس لئے میں نے بُرا نہیں منایا ۔ اس کے مقابلہ میں انقلاب میں ایسے مضامین تو نہیں نکلے مگر اس کا یہ ایک فقرہ ان مضامین کی نسبت بہت بدتر نکلا کیونکہ ان مضامین میں اپنے عقائد اور خیالات کی تشریح کی گئی تھی لیکن اس فقرہ میں تحقیر اور تذلیل کی گئی ہے۔ ”سیاست“ نے دلائل کے ساتھ بحث کی خواہ اس کے دلائل ہمارے خیال میں غلط ہی ہیں لیکن ” انقلاب کے فقرہ میں ہمارے عقیدہ اور ہمارے پیشوا کی تحقیر کی گئی۔ ہے اور جو چاہیں ان حالات میں میں ایک دفعہ بالوضاحت اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اتحاد چاہتے ہیں تو انہیں اقرار کرنا چاہئے کہ وہ ہمارے بزرگوں اور ہمارے عقائد کی تحقیر اور تذلیل نہ کریں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے خلاف کچھ نہ لکھیں۔ لکھیں اور بڑی خوشی سے لکھیں، لمبے لیے مضامین لکھیں وہ اس بات پر بحث کریں کہ مرزا صاحب کی پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں ۔ یہ لکھیں کہ آپ کی تعلیم قرآن کے خلاف ہے ہیں لکھیں لیکن تضحیک اور تحقیر نہ کریں مسائل پر شریفانہ طور پر بحث کریں ۔ اگر کوئی اس طرح کرے تو خواہ سارے کا سارا اخبار ہمارے خلاف مضامین سے بھر دے ہم اس پر بُرا نہ منائیں گے لیکن اگر یہ طریق اختیار نہیں کیا جائے گا تو پھر خواہ کوئی ہو کسی فرقہ اور کسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو، تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ ، تحقیر اور تمسخر کے ساتھ سلسلہ احمدیہ اور بانی سلسلہ احمدیہ کا ذکر کرے گا تو اس سے ہمارا کوئی تعلق نہ ہوگا اور جب تک اس سے تعلق رکھنے والی قوم اسے مجبور نہ کرے گی کہ وہ معافی مانگے اور آئندہ کے لئے ایسا نہ کرے اُس وقت تک اس وقت تک اس قوم سے بھی ہمارا کوئی تعلق نہ ہوگا۔ نہ ہو گا ۔ اس صورت میں ہم ان غیر قوموں سے صلح کریں گے جو جو : ہمارے ساتھ ساتھ شرافت شرافت کا برتاؤ کریں گی اور ہمارے مذہبی جذبات ت اور خیال رکھیں گی ۔ مگر یادر ہے جو قوم اس طرح ہمیں دھکا دے گی وہ خود اس بات کی احساسات کا خیال ذمہ دار ہوگی ۔ اگر اس کی قومی مصیبتوں میں ہم اس کی مدد نہ کریں پھر اس کا ہم سے امید رکھنا ہی غلطی ہوئی ہو گی اس اس حالہ حالت میں ہم اپنے سارے معاملات ، بالکل جدا کر لیں گے اور آزادانہ طور ۔ طور پر ترقی کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اور جو جماعت دوسروں کے لئے قربانی کر سکتی ہے وہ اپنے لئے بہت بڑی قربانی کر سکتی ہے اور میں خوب جانتا ہوں ہم آزادانہ طور پر خدا تعالیٰ کے فضل و کرم