خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 347

خطبات محمود مسم سال ۱۹۳۰ء تک یہ حق نہ لے لے ورنہ قانونی طور پر تو ان ناپاک لوگوں کو سزا دلوانا کچھ مشکل امر نہیں۔بعض نادان قانون سے جہالت کی وجہ سے شاید یہ خیال کرتے ہوں کہ دعوی اس لئے نہیں کیا جاتا کہ باتیں سچی ہیں حالانکہ فوجداری مقدمات میں تو کوئی کسی امر کو سچا ثابت کر دے تو بھی سزا ہو جاتی ہے۔وہاں تو واقعہ کے بچے یا جھوٹے ہونے کا سوال ہی نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہتک عزت ہوئی یا نہیں۔مجھے تو ان دوستوں پر تعجب آتا ہے جو مجھے کہتے ہیں آپ کیوں کوئی کا رروائی نہیں کرتے حالانکہ یہ ان کا کام تھا نہ کہ میرا۔اور بہتر تھا کہ اس کے متعلق وہ مجھ سے کچھ نہ کہلواتے کیونکہ میں اگر خلافت کی تائید میں کوئی بات کہوں تو یہی سمجھا جائے گا یہ اپنی تائید کرتا ہے۔بعض باتیں انسان کے اپنے منہ سے اچھی لگتی ہیں اور بعض دوسروں کے منہ سے۔اگر کسی شخص کے ہاں کوئی مہمان آئے اور وہ انتظار کرے کہ یہ کہے میرے لئے کھانا تیار کراؤ تو میں تیار کراؤں تو یہ کیسی بیہودہ بات ہو گی۔مجھے مولوی محمد احسن صاحب مرحوم کی ایک بات ہمیشہ یاد رہتی ہے آپ ایک دوست کے ہاں تشریف لے گئے اس دوست نے دریافت کیا کہ کھانا تیار کرایا جائے ؟ آپ اس پر بہت ناراض ہوئے اور کہا میں اب تمہارا کھانا ہرگز نہیں کھاؤں گا۔پس یہ باتیں آپ کو خود مجھنی چاہئیں تھیں اپنی عزت و خود داری کے لئے جماعت کا اپنا فرض تھا وہ خود اس معاملہ میں ہاتھ ڈالتی میرے منہ سے یہ باتیں بھلی نہیں لگتیں یہ میری ذات کا نہیں بلکہ خلافت کے وقار کا سوال تھا۔پس اس معاملہ میں یہ انتظار کرنا کہ میں بولوں نادانی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے میں کسی کے ہاں جاؤں اور اسے کہوں میرے لئے کھانا پکاؤ۔پس یہ سوال جماعت کی عزت اور اس کے اپنے احترام کا سوال تھا اور جماعت کا اپنا فرض تھا کہ اسے اپنے ہاتھ میں لیتی۔ہاں اگر وہ ان الزامات کو صحیح سمجھتی تھی تو اس کی دیانت داری کا تقاضا یہ ہونا چاہئے تھا کہ مجھ سے علیحدہ ہو جاتی لیکن اگر وہ انہیں جھوٹ سمجھتی ہے تو پھر یہ اس کی ہتک تھی میری نہیں تھی اس لئے اس کا کام تھا کہ وہ بولتی نہ کہ میرا۔اس معاملہ میں مجھ کو لکھنا درست نہیں۔نپولین کو جب انگریزوں نے قید کر لیا تو اسے اور اس کے ساتھیوں کو کھانے وغیرہ کی تکلیف ہوتی۔اس کے ساتھی اس کے پاس شکایت کرتے تو وہ کہتا برطانیہ کو لکھو کہ ہمیں کھانا اچھا نہیں دیا جا تا۔جب ان میں سے کوئی کہتا کہ حضور لکھیں تو زیادہ اثر ہوگا تو اس پر وہ کہتا کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ فرانس کا بادشاہ انگریزوں کو لکھے مجھے کھانا اچھا نہیں ملتا۔سو اگر آپ لوگوں کے دلوں میں خلافت کا ادب