خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 348

خطبات محمود ۳۴۸ سال ۱۹۳۰ء اور احترام ہے اور جماعت کو سوسائٹی میں باوقار بنانا چاہتے ہیں تو اس سوال کو ہر ایک جماعت کو خود اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے اور ہر جائز ذریعہ سے اپنا حق منوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہم نے تو اپنے زمانہ میں خلافت کا ہر ممکن احترام قائم رکھا اور ہماری یہ سب دشمنی اور عداوت اسی وجہ سے ہے۔ان لوگوں نے جو آج کل غیر مبائع کہلاتے ہیں بہت زور لگایا کہ مجھے اپنے ساتھ ملالیں لیکن انہیں کامیابی نہ ہوئی اور میں نے ہر موقع پر خلافت کے احترام کے لئے مخالفین کا سخت سے سخت مقابلہ کیا۔بچپن اور لاعلمی کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت میں خلافت کا قائل ہی نہ تھا لیکن جب پہلے خواجہ صاحب نے اور بعد میں حضرت خلیفہ اول نے سمجھایا تو میں سمجھ گیا۔اور اس کے بعد ہمیشہ خلافت کی حمایت کے لئے مستعد رہا اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے کبھی اسے شعائر اسلامی جیسی عزت نہیں دی۔اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی اس وجہ سے مخالفت کی دوستوں سے علیحدگی اختیار کی اگر چہ مجھے انتہائی دکھ دیا گیا اور سخت تکالیف پہنچائی گئیں لیکن میں نے ذرہ بھر پرواہ نہ کی اور ہمیشہ خلافت کی تائید میں کھڑا رہا۔ہاں اگر میری سمجھ میں یہی آتا کہ خلافت ہونی نہیں چاہئے تو میں اس صورت میں بھی منافقت سے کام نہ لیتا اور مولوی صاحب سے صاف کہہ دیتا کہ آج سے میں آپ سے علیحدہ ہوتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے منافق کے لئے سخت سزا رکھی ہے۔چنانچہ فرمایا۔اِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْبِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ " پس اگر آپ لوگ بھی ان باتوں میں ان لوگوں سے متفق تھے تو آپ کا فرض تھا کہ مجھ سے علیحدہ ہو جاتے اور اگر آپ لوگوں کو یقین تھا کہ یہ لوگ شرارت کر رہے ہیں اور سلسلہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ کا فرض تھا کہ خلافت کی عزت کو قائم رکھنے کے لئے ہر ممکن قربانی سے دریغ نہ کرتے لیکن چونکہ دوست ایک خاص نظام کی پابندی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اس لئے انہوں نے اس فرق کو نہیں سمجھا کہ یہ معاملہ ایسا نہیں تھا جس کے لئے تحریک میری طرف سے ہوتی۔میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ حکومت برطانیہ دوسری حکومتوں سے بہتر ہے حتی کہ جب اخبار میں حکومت برطانیہ پر کوئی حملہ میری نظر سے گزرتا ہے تو حالانکہ میں اُس وقت بالکل اکیلا ہوتا ہوں اور میری حالت سے کوئی بھی آگاہ نہیں ہو سکتا لیکن مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعض چھوٹے چھوٹے عہدیدار ایسے ہیں جنہیں حکومت سے ہمدردی نہیں۔