خطبات محمود (جلد 12) — Page 339
خطبات محمود ۳۳۹ سال ۱۹۳۰ء قابو رکھتا ہوں آپ لوگوں سے بھی یہی امید رکھتا ہوں۔یقینا آپ لوگوں میں سے کوئی بھی غیرت میں مجھ سے زیادہ نہیں اور قرآن کریم کو بھی میں سب سے زیادہ سمجھتا ہوں پس اگر قانون شکنی ہی جائز ہو تو آپ لوگوں سے زیادہ اس کا میں حقدار ہوں۔چند سال ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایک شخص نے یہ الزام لگایا اور اشتہار شائع کر کے باہر تمام شہروں میں تقسیم کئے کہ آپ باہر سے آنے والی عورتوں کو چھیڑتے تھے اور اس وجہ سے لا ہور کا ایک تحصیلدار آپ سے برگشتہ ہو گیا ہے۔دشمن تو ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں مگر مؤمن کے تمام کام اللہ تعالیٰ کی ذات پر منحصر ہوتے ہیں۔ہم بے غیرت نہیں ہیں لیکن ایمان کی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں ایمان کی وجہ سے ہی ہماری ساری دنیا سے لڑائی ہے لیکن اگر ایمان اور قرآن کریم کے احکام کے خلاف ہم عمل کریں تو ہمارا دین بھی گیا اور دنیا بھی۔اس لئے اپنے ایمان کو بچانے کی فکر کرو۔خوب سمجھ لو کہ یہ ہماری اپنی ہی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے کہ ایسی باتیں سننی پڑتی ہیں۔جماعت کے اندر بعض ایسے منافق ہیں جو ایسے لوگوں سے جا کر ملتے ہیں۔اگر آپ کے اندر جوش ہے تو منافقین کا مقابلہ کریں۔مقابلہ سے میری مراد یہ نہیں کہ اُن کو لٹھ مار دو بلکہ یہ ہے کہ انہیں بتا دو کہ تمہارے افعال کو ہم نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ان سے ایسے رنگ میں معاملات کرو کہ انہیں پتہ لگ جائے کہ تم ان کے کاموں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو اگر ان سے محبت اور ہمدردی کرو گے تو وہ اور دلیر ہوں گے۔میں ایسے مشتبہ لوگوں میں سے بعض کے متعلق چند دنوں کے اندر ہی ایک کمیشن بٹھلانے والا ہوں۔میرے پاس ان لوگوں کی لسٹ موجود ہے جو پوشیدہ طور پر ان لوگوں سے ملتے ہیں یا جن سے یہ لوگ ملتے ہیں۔جب دشمن کو یہ دلیری ہو کہ خود جماعت کے اندر میری! تائید کرنے والے لوگ ہیں تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جاتا ہے۔مجھے خوب معلوم ہے کہ احمدی کہلانے والے بعض آدمی چھوٹی چھوٹی اغراض کیلئے ان کے پاس جاتے اور انہیں یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ تمہارا مقابلہ ان سے ہے ہم سے تو نہیں اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جو ایمان کے لحاظ سے اچھے سمجھے جاتے ہیں مگر وہ چھوٹی چھوٹی اغراض کیلئے ایسی خوفناک غداری سے پر ہیز نہیں کرتے۔پس میں آپ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ گھر کے منافقوں کی اصلاح کرو۔جب تک کوئی قوم اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں بناتی اس پر فضل نازل نہیں ہوتے اس لئے اسلامی تعلیم پر اس طرح عمل کرو کہ اس کے فضلوں کے وارث بن جاؤ اور قرآن کریم کی تعلیم پر