خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 329

خطبات محمود ۳۲۹ سال ۱۹۳۰ء مشغول رہے یہ بھی کام تو ہے مگر اس کا فائدہ کوئی نہیں بلکہ نقصان ہے۔یا بعض لوگ ادھر کی بات اُدھر کر کے فساد کراتے رہتے ہیں۔یہ بھی کام تو بے شک ہے مگر فضول اور تباہ کن یا بعض شراب نوشی افیون یا دوسری مضر عادات کے عادی ہوتے ہیں یہ بھی کام ہیں لیکن مصر۔گویا متوکل جنہیں کہتے ہیں وہ ایسے ہوتے ہیں جن کی ذات سے مذہب یا قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا یوں تو وہ کام کرتے ہیں مگر مذہبی یا قومی کام نہیں کرتے۔ہم نے یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی متوکل نے کھانا کھانا چھوڑ دیا ہو' بیوی کو طلاق دے دی ہو، بچوں کو گھر سے نکال دیا ہو یا جائداد غرباء میں تقسیم کر دی ہو۔جو اپنی چیز ہے اُسے تو وہ خوب سنبھال کر رکھتے ہیں لیکن جو خدا کے کام ہیں یا قومی حقوق ہیں ان کے متعلق وہ کہہ دیتے ہیں تو کل کرنا چاہئے۔جب کوئی ایسی بات ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض ہو تو کہہ دیں گے تو کل کرو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دو لیکن کھانا کھانے کا سوال ہو تو سب سے پہلے ہاتھ دھو کر دستر خوان پر بیٹھ جائیں گے وہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم تو متوکل ہیں۔اگر بیوی بچوں میں آرام سے بیٹھ کر وقت گزارنے کا سوال ہو تو وہ ہر گز تو کل نہیں کریں گے۔اگر دوستوں کی مجلس میں بیٹھ کر باتیں کرنی ہوں تو کبھی نہیں کہیں گے ہم متوکل میں اپنے گھر میں بیٹھے رہتے ہیں خود ہی باتیں ہو جائیں گی۔اگر کسی پر غصہ آ جائے تو اسے گندی سے گندی گالیاں دیں گے اور کبھی یہ نہیں خیال کریں گے کہ ہم متوکل ہیں۔گالی کا جواب گالی دینے کی کیا ضرورت ہے ہماری طرف سے فرشتے خود ہی اسے جواب دیں گے۔اُس وقت تو اُن کا تو گل نہیں ٹوٹتا۔لیکن جب خدا تعالٰی کی طرف سے عائد کردہ فرائض کی بجا آوری کا سوال ہو تو انہیں تو کل یا د آ جاتا ہے۔مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا میں ایک دفعہ لاہور سے آ رہا تھا ڈپٹی محمد شریف صاحب جو ان دنوں بیمار ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت عطا کرے میرے ساتھ تھے۔ایک گاڑی کے سامنے بہت سے لوگ کھڑے تھے ڈپٹی صاحب نے مجھے بتایا کہ اس کمرہ میں ایک پیر صاحب بیٹھیں گے جن کا فتویٰ ہے کہ جو شخص کسی احمدی سے بات کرے اُس کی بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے۔میرا تو ارادہ تھا کہ وہیں بیٹھوں لیکن اُنہوں نے کہا یہاں بیٹھنا مناسب نہیں اور ہم دوسرے کمرے کی طرف چلے گئے۔لیکن اتفاق سے اُس درجہ کا کوئی اور کمرہ ہی نہ تھا جس کا میرے پاس ٹکٹ تھا اس لئے میں و ہیں جا بیٹھا۔جس وقت گاڑی چلنے لگی تو ایک مُرید نے پیر صاحب سے پوچھا کیا کھانے کیلئے کچھ