خطبات محمود (جلد 12) — Page 319
خطبات محمود ٣١٩ سال ۱۹۳۰ء لے کر آتے ہیں۔اگر وہ کچھ لے کر نکلیں تو دوسرے بھی اندر جانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر خاموشی سے نکل آئیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ اندر ضرور کوئی بلا ہی ہو گی۔اسی طرح لوگ یہ دیکھ رہے ہیں کہ احمدیت میں داخل ہونے والے کیا اثر وہاں سے لیتے ہیں لیکن جب وہ ہماری طرف سے خاموشی دیکھتے ہیں تو خیال کرتے ہیں اگر اندر کچھ ہوتا تو یہ کیوں نہ شور مچاتے۔اگر کسی جگہ آگ لگنے کی خبر آئے تو وہاں نہ جانے والے دیکھتے ہیں کہ جانے والے کس حالت میں لوٹتے ہیں اگر تو وہ شور مچائیں ان کی پگڑیاں ان کے گلوں میں پڑی ہوں، انہیں تن بدن کی ہوش نہ ہو اور بے تحاشہ دوڑ رہے ہوں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کوئی بڑا حادثہ ہے۔لیکن اگر لوگ دو دو چار چار کی ٹولیاں بنا کر اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر مزے سے باتیں کر رہے ہوں تو وہ خیال کر لیتے ہیں کہ معمولی آگ ہوگی لوٹا پانی کا ڈال دیا اور بجھ گئی۔پس لوگ دیکھ رہے ہیں کہ احمدیوں کی کیا حالت ہے اگر گھبراہٹ اور سرگرمی ہو تو وہ سمجھیں گے بات بڑی ہے لیکن اگر احمدی چپکے ہور ہیں تو دوسرے بھی اسے ایک معمولی بات سمجھیں گے۔ایک زمیندار جو بیعت کر کے احمدی جماعت میں داخل ہوتا ہے اگر وہ حسب دستور سابق ہل چلاتا اپنے جانوروں کو چارہ ڈالتا اور تمام دیگر کام کرتا رہتا ہے احمدی ہونے کے بعد اس میں کوئی تغیر نہیں پیدا ہوتا تو دوسرے یہی خیال کریں گے کہ اسے کوئی غیر معمولی چیز نظر نہیں آئی۔اگر واقعہ میں ہمارے گھروں میں آگ لگی ہوتی اور یہ امن میں ہوتا تو اس طرح اطمینان سے اپنے کام کاج میں مشغول نہ ہوتا۔عید کا چاند دیکھ کر ایک بچہ بھی مارے خوشی کے شور مچانے لگ جاتا ہے بلکہ اگر نظر نہ آئے تو بھی بعض لوگ شور مچا دیتے ہیں کہ دیکھ لیا' دیکھ لیا۔پھر کون بیوقوف ہے جو مسیح موعود کو دیکھ لئے پہچان لے اور پھر چُپ رہے۔اگر کوئی چپ رہتا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ اُس نے دیکھا ہی نہیں یونہی جھوٹ موٹ کہہ رہا ہے کیونکہ خوشی یا رنج کی بات دیکھنے کے بعد انسان چُپ رہ ہی نہیں سکتا۔جس طرح نہر کے دہانے پر بیٹھ کر انسان اسے ہاتھ سے نہیں روک سکتا اسی طرح خوشی کی خبر پر بھی وہ پردہ نہیں ڈال سکتا یا رنج پر خاموش نہیں رہ سکتا اور نبیوں کے ساتھ یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ان پر ایمان لانے والوں کے لئے خوشی ہوتی ہے اور نہ ماننے والوں کے لئے رنج۔اور دنیا میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کو دیکھ کر بھی کوئی خاموش نہیں رہ سکتا تو جہاں دونوں اکٹھی ہوں، خوشی بھی ہو اور غم بھی زہر بھی موجود ہو اور تریاق