خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 317

خطبات محمود ۴۲ سال ۱۹۳۰ء ہر احمدی پوری سرگرمی سے دعوت الی اللہ کرے (فرموده ۱۴۔مارچ ۱۹۳۰ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں آج زیادہ تفصیل کے ساتھ دو امور کی طرف توجہ دلانا چاہتا تھا۔لیکن میری طبیعت کچھ خراب ہے۔چند دن سے حرارت رہتی ہے اور آج جلاب بھی لیا ہے اس لئے میں اختصار سے قادیان والوں کو اور بیرونی احباب کو توجہ دلاتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اپنی مؤ منانہ شان کے مطابق وہ اختصار یا تفصیل کی پرواہ نہیں کریں گے اور اس عہد کے مطابق جو انہوں نے میرے ہاتھ پر کیا ہے عملی طور پر صادق العہد ہونے کا ثبوت دیں گے۔میں نے رمضان کے دنوں میں بیان کیا تھا کہ معلوم ہوتا ہے رمضان کی وجہ سے احباب نے تبلیغ میں سستی کر دی ہے کیونکہ جنوری کے مہینہ میں بیعت کرنے والوں کی جو کثرت تھی وہ فروری میں نظر نہ آئی۔میں خوش ہوں کہ دوستوں نے فورا ہی اس خطبہ کے شائع ہونے کے بعد اس کمزوری کو محسوس کیا اور تبلیغ کی طرف زیادہ توجہ شروع کر دی اور اس کے نتیجہ میں معا بیعت بھی بڑھنے لگی ہے لیکن جہاں میں ایک طرف اس بات پر خوش ہوں کہ جماعت کا ایک حصہ خواہ وہ کتنا بھی قلیل کیوں نہ ہو ایسا ہے جو اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد ضروری ہے کہ اس کی ہر آواز پر لبیک کہا جائے جب چند دنوں کی خاطر ایک ملازم اپنے آقا کے احکام کی تعمیل میں کو تا ہی نہیں کرتا نہیں کر سکتا یا نہیں کرنا چاہتا حالا نکہ ملازمت عارضی اور صرف چند گھنٹوں کے لئے ہوتی ہے تو جس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی ہو اس کی آواز پر توجہ نہ کرنا کتنی بڑی