خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 316

خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء خدا تعالی کی راہ میں دیتا ہوں اور ایسی وفاداری سے اس عہد کو نبھایا کہ جس شخص نے سب سے پہلے آپ کو مبارک باد دی اسے بھی اپنے ایک دوست سے قرض لے کر تحفہ دیا۔اپنے مال سے کچھ نہ دیا۔کیونکہ وہ ان کے نزدیک ان کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہو چکا تھا تو مو من ابتلاء میں ترقی کرتا ہے لیکن منافق اور بھی گر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ابتلاء آتے ہیں وہ اس لئے آتے ہیں کہ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔کے جب کافر پر عذاب بھیجنے سے بھی خدا تعالیٰ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اس کی طرف لوٹے تو مؤمن پر ابتلاء اسے اپنے سے دُور کرنے کے لئے کس طرح ہو سکتا ہے۔جو شخص دشمن کو بھی اس کے فائدہ کے لئے سزا دیتا ہے وہ دوست کو نقصان کے لئے کس طرح تکلیف دے سکتا ہے لیکن بعض نادان اپنے نفع و نقصان اور مفید و مضر میں امتیاز نہ کر سکنے کی وجہ سے سخت ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب پہنچتا ہے اس کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دلوں کو صاف کرے۔اگر انسان اس سے سبق حاصل کرے تو وہی اس کے لئے برکت کا موجب ہو جا تا ہے اور اگر دُور جا پڑے تو اللہ غنی ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں۔اس لئے تم پر بھی جب کوئی مصیبت آئے تو اگر اپنے آپ کو منافق سمجھتے ہو جب بھی یہی خیال کرو کہ اس کی غرض لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ہے اور اگر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا دوست سمجھتے ہو تو یہ خیال کرو کہ جب کوئی ذلیل انسان بھی اپنے دوست کو نقصان نہیں پہنچا تا تو خدا تعالیٰ اپنے دوست کو کس طرح ضائع کر سکتا ہے پس یقین رکھو کہ وہ ابتلاء بھی تمہارے اعزاز کے لئے ہے تباہی کے لئے نہیں۔السجدة: ۲۲ ال عمران: ۳۲ بخاری کتاب المناقب باب مناقب سعد بن ابی وقاص بنی اسرائیل: ۸۴ الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۳۰ ء ) ۲۵ حضرت کعب بن مالک بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک ك الروم: ۴۲