خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۰ء کلام نہ کرے اور کچھ دنوں کے بعد حکم دیا ان کی بیویاں بھی ان سے علیحدہ رہیں۔خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتنی بڑی سرزنش تھی۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں میں متواتر رسول کریم نے کی مجلس میں حاضر ہوتا اور آ کر السّلامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور خیال کرتا آپ بولیں گے تو نہیں مگر شاید منہ میں جواب دیں اس لئے میں آپ کے ہونٹوں کی طرف دیکھتا لیکن جب کوئی حرکت نہ ہوتی تو اُٹھ کر چلا جاتا اور دوبارہ آکر السّلامُ عَلَيْكُمْ کہتا اور پھر ہونٹوں کی طرف دیکھتا جب ہونٹوں میں حرکت نہ نظر آتی تو پھر باہر چلا جاتا اور پھر آتا اسی طرح آتا جاتا رہتا۔ایک دفعہ میں اپنے بھائی کے ساتھ ہو لیا جس سے مجھے اتنی محبت تھی کہ ہمیشہ ہم اکٹھا کھانا کھاتے تھے اس سے میں باتیں کرتا گیا مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔میں نے تنگ آ کر کہا کہ تو تو اچھی طرح جانتا ہے میں منافق نہیں ہوں محض غفلت کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔اس نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔اس پر میں نے خیال کیا اس سے زیادہ اور کیا ہو گا کہ اتنا عزیز بھائی بھی میری طرف توجہ نہیں کرتا۔میں دل برداشتہ ہو کر بازار کی طرف چلا گیا راستے میں مجھے بعض لوگوں نے بتایا کہ ایک اجنبی تمہیں پوچھتا پھرتا ہے۔تھوڑی دیر بعد ایک شخص نے پوچھا کیا تم کعب بن مالک ہو؟ وہ شخص غستان کے فرمانروا کا اینچی تھا جو سرحد پر سلطنت روما کے ماتحت ایک عیسائی ریاست تھی۔اس نے مجھے ایک خط دیا جس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہے تم کتنے معزز آدمی ہو اور قوم میں تمہیں کس قور رسوخ اور تصرف حاصل ہے مگر خبر ملی ہے کہ محمد نے تم سے ایسا بُرا سلوک کیا ہے جو ذلیل لوگوں سے بھی نہیں کیا جاتا اس کا ہمیں بہت افسوس ہے اگر تم ہمارے پاس آ جاؤ تو ہم تمہارا مناسب اعزاز کریں گے۔میں نے یہ خط پڑھ کر دل میں کہا یہ شیطان کا آخری حملہ ہے۔خط لانے والے سے میں نے کہا آؤ اس کا جواب دوں۔میں اسے ساتھ لے کر چلا آگے ایک تنور جل رہا تھا میں نے خط اس میں پھینک کر کہا اپنے آقا سے جا کر کہہ دو کہ اس کے خط کا یہ جواب ہے۔یہ کہہ کر میں گھر آ گیا چونکہ کوئی بات تو کرتا نہیں تھا اس لئے میں اب گھر میں ہی رہنے لگا۔آخر ایک دن صبح کی نماز کا وقت تھا کہ میں نے سنا ایک شخص دُور پہاڑی سے آواز دے رہا ہے۔کعب بن مالک ! مبارک ہو خدا اور اس کے رسول نے تمہیں معاف کر دیا۔کعب بن مالک مالدار آدمی تھے اور جنگ سے بھی وہ اس لئے رہ گئے تھے کہ انہوں نے سمجھا میرے پاس سواری ہے جب چلوں گا لشکر میں جا کر شامل ہو جاؤں گا مگر وہ اسی خیال میں رہ گئے۔انہوں نے کہا میں چونکہ مال و دولت کی وجہ سے جہاد سے محروم رہا ہوں اس لئے اپنی ساری جائداد