خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 312

خطبات محمود ٣١٢ سال تھوڑا ہی عرصہ بعد وہ خدا تعالیٰ کے رحم کو قطعا فراموش کر دیتے ہیں۔پس جہاں اس قدر غفلت کے سامان ہوں وہاں ضروری ہے کہ جگانے کے سامان بھی ہوں یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو بار بار جگاتا رہتا ہے۔کہیں مالی ابتلا ، کہیں عزت و آبرو کے ابتلاء کہیں عزیز و اقارب کی جدائی کے ابتلاء لاتا ہے۔قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَنْدِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ یعنی دنیا کی چیز میں انسان کو ہر لحظہ اپنی طرف کھینچ رہی ہیں اور وہ ہماری طرف متوجہ نہیں ہوتے اس لئے ہم انہیں چھیڑتے رہتے ہیں تا وہ اس خیال سے کہ کہیں عذاب اکبر میں مبتلا ء نہ ہو جائیں وہ ہماری طرف آجائیں اور زندگی کا اصل مقصد حاصل کر لیں۔غرض ابتلاء در حقیقت انسان کے ایمان کی پختگی کا موجب ہوتے ہیں لیکن یہی ابتلاء بعض کو خدا تعالیٰ سے اور بھی دُور پھینک دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ایک دوست کے متعلق جو بعد میں سلسلہ میں بھی داخل ہو گئے اور مخلص تھے فرمایا کرتے میں نے اس وجہ سے ان کے ساتھ لمبے عرصہ تک بولنا چھوڑ دیا کہ ان کا ایک لڑکا فوت ہو گیا جب جنازہ پر میرے بڑے بھائی صاحب گئے تو وہ دوڑ کر ان سے چمٹ گئے اور چلا کر کہنے لگے مجھ پر خدا تعالیٰ نے بڑا ظلم کیا ہے۔اسی طرح ایک عورت کے متعلق جس کا لڑکا فوت ہو گیا تھا سنا کہہ رہی تھی خدایا ! اگر تیرا لڑکا فوت ہوتا تو تجھے معلوم ہوتا کہ کتنی تکلیف ہوتی ہے یہ اس کی جہالت اور نادانی تھی۔خدا نے ہی اسے لڑکا دیا تھا اسی نے لے لیا اس کا اس میں کیا تھا مگر اس نے یہ نہ سمجھا اور بیہودہ گوئی کرنے لگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالی بیٹے بیٹیوں سے پاک ہے لیکن پھر بھی جو اُس کے سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں وہ ان کو سب سے زیادہ ابتلاء میں ڈالتا ہے تا دنیا یہ نہ کہے کہ اپنے پیاروں کو چھوڑ دیتا ہے۔وہ اولاد سے بے شک پاک ہے مگر وہ اپنے پیاروں سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ کوئی ماں اپنے بچہ سے نہیں کر سکتی مگر پھر بھی اس نے حضرت آدم حضرت نوح حضرت ابراہیم حضرت موسی حضرت عیسی اور سب سے آخر مد مصطفی اے کو ایسے مصائب میں دیکھا کہ دنیا کا کوئی ماں باپ اپنے اکلوتے بیٹے کو تو در کنارا اپنے دس بیٹوں میں سے کسی ایک کو بھی ایسی تکالیف میں نہیں دیکھ سکتا مگر پھر بھی اُس نے انہیں اس حالت میں رہنے دیا اور کہا ابھی ان کو اور پکنے دو۔اس نے آدم علیہ السلام کو جنت سے نکلنے کی تکلیف میں دیکھا مگر یہی کہا کہ اسے بھٹی میں پر کر صاف ہونے