خطبات محمود (جلد 12) — Page 308
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء آتا ہے کہ اس دن کی مبارک گھڑیوں میں یہ دعا کرے کہ رمضان کے دن تو گزر گئے لیکن اے خدا! تو رمضان کی حقیقت ہمارے دل کے اندر محفوظ کر دے تا وہ ہم سے کبھی جدا نہ ہو۔ اس لحاظ سے اگر آج کے جمعہ کی تعریف کریں تو یقیناً ہم نے اس کا مبارک طور پر استعمال کیا۔ لیکن اگر رمضان ہم سے چلا جائے تو یقیناً ہم سے زیادہ منحوس اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ دنیا میں بیٹا باپ سے ماں بیٹے سے سے اور اور بھائی بھائی سے جدا ہونے پر پر کبھی ؟ خوش نہیں ہوتے ۔ خوشی ہمیشہ دشم دشمن کے جدا ہونے پر ر ہی ہی ہوا ہوا کرتی ہے اور برکت کی دشمن نحوست نحوست ہی ہو سکتی ہے اس لئے جو شخص رمضان کے جانے پر خوش ہوتا ہے وہ یقیناً منحوس ہے ۔ پس آؤ آج خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کریں کہ وہ اس دن کو ہمیشہ کے لئے ہم سے وابستہ کر دے اور ہماری کوئی گھڑی رمضان سے جدا نہ ہو۔ رمضان کیا ہے شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرآن کے وہ مبارک ایام جن میں قرآن کا نزول ہوا رمضان کہلاتے ہیں اور وہ دور جب قرآن کا نزول بند ہو جائے نہایت منحوس ہو گا ایسے وقت میں تاریکی اور ظلمت کے سوا کیا باقی رہ سکتا ہے۔ یہ مت سمجھو کہ قرآن ایک ہی دفعہ نازل ہو گیا اب نازل نہیں ہوتا ۔ قرآن ہمیشہ نازل ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔ اگر نازل نہ ہو تو دنیا تمام کی تمام تاریکی میں مبتلاء ہو جائے ۔ اگر ہم اپنے اندر رمضان کی کیفیت پیدا کر لیں تو ہر وقت قرآن صلى الله علیه ان کا نزول ہو سکتا ہے ؟ ہو سکتا ہے جیسے گو اس وقت محمد ی جسمانی طور پر ہم سے جدا ہیں لیکن روحانی طور پر آج بھی دنیا ان کے وجود کو کسی نہ کسی طرح محسوس کر رہی ہے ۔ آپ اول المؤمنین ہیں اس لئے آپ سے وابستہ ہوئے بغیر کوئی مؤمن نہیں ہو سکتا کیونکہ جب ہمارے اور کسی دوسری چیز کے درمیان کوئی اور وجود ہو تو جب تک اس وجود میں سے ہو کر ہم تک نہ آئے ہم میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ اول المؤمنین کے یہ معنے ہیں کہ ہر مؤمن ظلی مومن ہے جیسے واحد ہستی اللہ تعالیٰ کی ہے اور دنیا کے اندر باقی جو ہستیاں ہیں وہ اس کے اظلال اور انعکاس ہیں ۔ اسی طرح اول مؤمن رسول کریم ہیں اور جو انسان محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کو محسوس نہیں کرتا وہ ہرگز مؤمن نہیں ہو ہو سکتا۔ سکتا۔ غرض قرآن کریم کا نزول ہمیشہ ہوتا ہے اور ہر مؤمن پر ہوتا ہے اگر چہ نزول سے ذرائع مختلف ہیں ۔ کسی پر کشوف اور کسی پر سچے خوابوں کے ذریعہ پھر بعض پر وقفہ کے بعد ہوتا ہے اور بعض پر روزانہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بار ہا سنا آپ فرماتے کہ بعض البهام تو ہم پر روز ہی ہوتے ہیں لیکن وہ چونکہ محض تسکین قلب کے لئے ہوتے ہیں اس لئے