خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 28

خطبات محمود ۲۸ XXXXXXX سال ۱۹۲۹ء مسلمانوں کو عزت حاصل ہو ۔ آج سے میں پچیس سال پہلے زمیندارہ مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اب وہ بھی نہیں رہا وہ بھی غیر قوموں کے ہاتھ میں چلا گیا ہے۔ تجارت صنعت، حرفت ساہوکارہ بینکنگ سب دوسروں کے قبضہ میں ہیں دنیا کے کسی شعبہ میں آج مسلمان معز ز نظر نہیں آتے ۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے جوش کو دبا نہیں سکتے وہ کبھی خیال نہیں کرتے نہیں کرتے کہ مل کر کام کرنے کے لئے کم از کم یہ طریق اختیار کریں کہ ایک دوسرے سے بلا وجہ چھیڑ چھاڑ نہ کریں، خواہ مخواہ تحقیر و تذلیل نہ کریں ۔ مذہبی عقائد کسی حالت میں چھوڑے نہیں جاسکتے یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک شیعہ سنیوں کو خوش کرنے کے لئے کہے حضرت ابوبکر خلافت کے حق دار تھے اور حضرت علی کا حق نہ تھا کیونکہ یہ کہنے سے اس کا مذہب ہی باقی نہیں رہتا ۔ لیکن اگر کوئی شیعہ سنیوں کو چھیڑنے اور تنگ کرنے کے لئے یہ کہے کہ ابو بکر غاصب تھا اس میں سوائے بُرائی کے کچھ نہ تھا تو پھر صلح نہیں ہو سکتی ۔ اسی طرح شیعہ اگر کسی سنی سے یہ امید رکھیں کہ وہ کہے خلافت کا حق حضرت ابو بکر کا نہ تھا بلکہ حضرت علی کا تھا تو وہ غلطی کریں گے۔ اس قسم کی امید رکھنا جس میں کسی کو اپنے مذہبی عقائد ترک کرنے پڑیں غلطی ہے اور اس طرح کبھی اتحاد نہیں ہو سکتا لیکن مذہبی اختلاف رکھنا اور بات ہے اور مذہبی اختلاف کی وجہ سے دوسروں دوسروں کو چھیڑنا ان کی تحقیر و تذلیل کرنا کرنا اور بات ہے۔ ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک شخص کو اپنے محلہ کی ایک عورت سے پُر خاش تھی جس کی ایک آنکھ ماری ہوئی تھی ۔ وہ شخص جب اس عورت کے پاس سے گذرتا تو کہتا تھا بھی کانہیں سلام ۔ اس سے اس کی غرض یہ نہ ہوتی تھی کہ سلام کہے۔ بلکہ یہ ہوتی تھی کہ اسے کافی کہے لیکن چونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے صرف کافی کہا تو سارے محلہ کے لوگ اس کے پیچھے پڑ جائیں گے اور اسے لعنت ملامت کریں گے اس لئے سلام ساتھ لگا لیتا تا کہ اگر کوئی کچھ کہے تو وہ یہ کہہ سکتے کہ میں نے تو سلام کہا ہے ۔ کچھ دنوں تک تو وہ عورت اس کی بات سنتی رہی آخر لڑنے پر آمادہ ہوگئی اس کا شور سن کر محلہ کے لوگ جمع ہو گئے اور پوچھا کیا بات ہے؟ اس شخص نے کہا میں نے اسے سلام کہا ہے اور یہ مجھے گالیاں دینے لگ گئی ہے۔ جب عورت سے پوچھا گیا تو اس نے کہا یہ سلام نہیں کہتا بلکہ مجھے کافی کہہ کر چھیڑتا ہے۔ وہ پس جب کوئی بات کہنے میں طعن و تشنیع کا پہلو مد نظر ہو اور دوسرے کی تحقیر اور تذلیل کی جائے تو پھر تعلقات درست نہیں رہ ست نہیں رہ سکتے ۔ اختلاف ہوا ۔ اختلاف ہوا ہی کرتا ہے اور عقائد کا اختلاف پایا جاتا