خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 283

خطبات محمود ۲۸۳ سال ۱۹۳۰ء وقت رستہ دکھلائے۔دنیا میں ہی دیکھ لو جو عزت تمہارے دل میں تمہارے موجودہ اُستاد کی ہے اتنی اس کی نہیں جو کسی گزشتہ زمانہ میں تھا۔پس حقیقی معلم وہی کہلا سکتا ہے جو ہر وقت کا اُستاد ہو اس لئے اگر ہم محمد رسول اللہ اللہ سے ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں تو وہ معلم ہیں وگر نہ نہیں۔نہ سیکھنے کے یہ معنے ہوں گے کہ یا تو آپ کی تعلیم ختم ہو گئی ہے یا ہم نے آپ کو معلم ما نا چھوڑ دیا ہے۔یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ہے اور اسی طرح خلافت کا حال ہے۔اگر خلیفہ کے وعظ کوسن کر صرف سُبحان الله اور واہ واہ ہی کر دیا اور اس پر عمل نہ کیا تو وہ معلم کیسا ہوا۔اگر اسے معلم کہتے ہو تو اس کے وعظ کو شاگرد کی طرح سند اور اس پر عمل کرو۔اول تو ہر خطیب ہی معلم ہے مگر وہ شخص جس کے ہاتھ پر دیانتداری سے بیعت کی ہو اس کے خطبہ پر تو ضرور ہی عمل کرنا چاہئے لیکن اگر عمل نہیں تو یہ سب کچھ صرف عادتا ہی ہے ایمان نہیں اور ایسا شخص معلم ماننے کا دعوی کبھی نہیں کر سکتا اس کی بیعت محض دکھاوا ہے چاہے اس کے دل میں اخلاص ہی ہومگر اللہ تعالیٰ کی نظر میں وہ دکھاوا ہی ہے۔پس میں بار بار توجہ دلاتا ہوں کہ اس تعلیم کو دل میں داخل کرو۔یہ امید تو بے شک کسی کے متعلق نہیں کی جاسکتی کہ وہ سب کچھ ایک دن میں ہی سیکھ لے۔مومن، صلحا، خلفا ءسب کی ترقی تدریجی ہی ہوتی ہے۔لیکن اگر یہ حالت ہو کہ سالہا سال گزر گئے اور کسی نئی بات پر عمل ہی نہ کیا تو پھر کس منہ سے یہ اقرار کیا جا سکتا ہے کہ ہم خلیفہ کو معلم مانتے ہیں۔کوئی طالب علم فخر سے یہ نہیں کہ سکتا کہ فلاں شخص میرا اُستاد ہے مگر سال بھر میں میں نے اس سے ایک لفظ بھی نہیں سیکھا۔اگر ایک بات ہی سیکھی جائے جب بھی کہا جا سکتا ہے کہ ترقی تدریجی ہوتی ہے لیکن اگر ایک بات بھی نہ ہو تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم معلم مانتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔كَلِمَةُ الحِكْمَةِ ضَالَةَ الْمُؤْمِنِ أَخَذَهَا حَيْثُ وَجَدَها کے یعنی حکمت کی بات مؤمن کی گمشدہ متاع ہے جہاں ملے چاہئے لے لے۔اگر کسی نہایت بُرے انسان سے بھی کوئی اچھی بات ملے تو اسے بھی لے لینا چاہئے۔ہمارے ملک میں ایک بھابڑہ قوم ہے جنہیں جینی کہا جاتا ہے ان میں نفس کشی کو ترقی کا موجب سمجھا جاتا ہے وہ ہر سال ایک نئی چیز کا استعمال ترک کر دیتے ہیں۔تو یہ مسئلہ کہ ہر سال وہ ایک چیز کو اس یقین کی بناء پر ترک کر دیتے ہیں کہ اس سے روحانی ترقی ہوگی اس سے سبق سیکھ کر اگر ہم بھی ہر سال ایک نئی