خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 284

خطبات محمود YAM بات اپنے اندر پیدا کر لیں تو کس قدر فائدہ ہو سکتا ہے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔اس سے میری یہ مراد نہیں کہ پہلے دو نفل پڑھتے تھے تو اب چار کر دیئے بلکہ اخلاقی تبدیلی مراد ہے کیونکہ اصل چیز اخلاق ہی ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اندر سننے کے ساتھ عمل کرنے کی عادت پیدا کرو۔یہ نہیں کہ ہر بات پر یکدم عمل کرنے لگ جاؤ۔انسان کے اندر کوتا ہیاں بھی ہوتی ہیں اور جب تک وہ اس مقام پر نہ پہنچ جائے جب وہ خدا کی مغفرت کی عام چادر کے نیچے آ جاتا ہے اور اس کے پچھلے اور پہلے سب گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اُسی وقت یکدم ساری خوبیاں اس کے اندر پیدا ہو سکتی ہیں۔مگر ایسے لوگوں کی ترقی پھر بھی تدریجی ہی ہوتی ہے کیونکہ جس طرح خدا کی ذات غیر محدود ہے اسی طرح انسانی ترقیات بھی غیر محدود ہیں لیکن اس حالت کے بغیر انسان عیوب سے مبرا نہیں ہو سکتا۔بعض لوگوں کو پیدائش سے ہی یہ مقام عطا کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان سے خاص کام لیا جانا مقدر ہوتا ہے جیسے رسول کریم ﷺ یا دوسرے بڑے لوگ اور جیسے ہمارے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہوئے ہیں مگر ایسے لوگوں کے سوا باقی لوگ ساری اصلاحین ایک وقت میں اپنے اندر نہیں کر سکتے۔اور جیسے طالب علم آہستہ آہستہ کتاب یاد کرتا ہے ان کی بھی یہی حالت ہوتی ہے کہ آہستہ آہستہ ہی ساری باتوں پر عمل کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔گوارادہ تو چاہئے کہ سب پر عمل کرنا ہے لیکن اور نہیں تو سال میں ایک ہی سہی۔پھر اگر خدا توفیق دے تو چھ مہینہ میں، تین مہینہ میں ہر مہینہ میں ہر دن میں بلکہ ہر گھنٹہ میں کوئی نہ کوئی بات سیکھی جائے لیکن کم از کم سال میں ایک تو ضرور ہی چاہئے۔جو لوگ سب کچھ پڑھ سن کر بھی ایسی عادات ترک نہیں کرتے ان کی مثال تو ایسی ہی ہے جیسے رسول کریم ﷺ نے فرمایا بعض لوگوں کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے کوئی تیر انسان کے جسم کو چیر کر نکل جائے لیکن اس کے ساتھ خون کا ذرہ نہ لگے سے ایسی حالت خطرہ سے خالی نہیں ہوتی۔آگے بڑھنے والا تو اگر گرے گا تو آخر کھڑا ہی ہو گا لیکن جو ایک ہی مقام پر کھڑا ہو وہ دھکا لگنے پر ضرور نیچے ہی گرے گا۔چلنے والے کے لئے تو ایک چانس ہوتا ہے کہ وہ کھڑا ہو کر اپنے نفس کو سنبھال سکے لیکن جو پہلے ہی کھڑا ہے وہ ضرور گرے گا۔یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ گر جاتے ہیں کیونکہ وہ چل نہیں رہے ہوتے۔پس کم از کم سال میں ہی ایک تغیر اپنے اندر پیدا کرو۔میں