خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 281

خطبات محمود ۲۸۱ سال ۱۹۳۰ء ہوں کہ کسی کا نام نہیں لیتا اتنا ہی پردہ فاش کرتا ہوں جس سے وہی لوگ سمجھ سکیں جن میں اس جھوٹ کی اشاعت کی گئی۔میں دیکھوں گا اگر اس سے اصلاح اور اخلاق میں درستی پیدا ہوگئی اور میں نے سمجھ لیا کہ اور نہیں تو سننے والے ہی اپنا فرض ادا کرنے لگ گئے ہیں یعنی وہ ایسی باتوں کو سن کر آگے ان کی اشاعت نہیں کرتے تو فبها وگرنہ ہر بات کی کھلی تحقیقات کراؤں گا اور اس کے بعد اعلان کیا کروں گا کہ فلاں شخص نے فلاں غلط بات پھیلائی جو تحقیقات سے غلط ثابت ہوئی ہے۔میں مانتا ہوں کہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے اور جس جگہ غلط فہمی کا احتمال ہو سکے وہاں کسی کی طرف جھوٹ منسوب نہیں کیا جا سکتا اور میں ایسے امور نہیں لوں گا جن میں غلطی فہمی کا احتمال ہو سکے اور کوشش یہی کروں گا کہ کسی کی طرف جھوٹ منسوب نہ ہو لیکن دیدہ دانستہ شرارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ کسی شخص کا نام لے کر اس کی طرف کسی بات کو منسوب کر دینا شرعاً نا جائز ہے جب تک پوری طرح اس کی تحقیقات نہ ہو جائے۔ایک واعظانہ رنگ ہوتا ہے جس میں واعظ اپنی تقریر کے دوران میں کسی کا نام لئے بغیر ایک مثال دے دیتا ہے لیکن اس طرح مثال کے طور پر کوئی بات بیان کر دینا کسی کے لئے بطور حجت نہیں ہوسکتا۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی بعض اوقات کر لیتے تھے۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی تو عادت میں یہ بات تھی وہ ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی ایسی مثال ضرور دے دیتے۔لوگ ان سے لڑتے کہ آپ نے ہم پر یہ الزام لگایا ہے مگر آپ فرماتے میں نے تمہارا نام نہیں لیا۔تو واعظ اگر کوئی ایسی بات کہہ جائے جس میں کسی کا نام نہ لے اور دانستہ اس کا نام ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرے۔دانستہ میں نے اس لئے کہا کہ میں خود بھی اپنے ایک بیان میں ایسی غلطی کر چکا ہوں اور اگر چہ میں نے کسی کا نام تو نہیں لیا تھا لیکن ایسے الفاظ میرے منہ سے نکل گئے جن سے بعض لوگ پہچان گئے ہوں گے کہ یہ کس کا ذکر ہے۔واعظانہ رنگ یہ ہے کہ مثال پیش ہو لیکن وہ آدمی بد نام نہ ہو۔تو جب واعظانہ رنگ ہو اور واعظ کی نیت کسی شخص کی مذمت نہ ہو بلکہ اس کے کسی فعل کی مذمت ہو تو پھر تو کوئی حرج نہیں۔لیکن ایسی مثال کی بناء پر کسی شخص پر کوئی الزام نہیں لگایا جا سکتا اور نہ اسے کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔اس لئے امام یا واعظ کبھی ایسے رنگ میں بات کر دیتا ہے کہ یہ پتہ تو کسی کو نہ لگ سکے کہ کس نے یہ قصور کیا لیکن لوگ اس سے سبق حاصل کر سکیں۔لیکن اگر نام لے لیا